کرکٹ زیادہ ضروری ہے

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی

کرکٹ سیاست کی نذر

آئی پی ایل مقابلے اب بھارت سے باہر منعقد ہوں گے
،تصویر کا کیپشنآئی پی ایل مقابلے اب بھارت سے باہر منعقد ہوں گے

تو انجام کار انڈین پریمئر لیگ کے میچ ہندوستان میں نہیں کھیلے جائیں گے۔ کرکٹ سیاست کی نذر ہو ہی گئی۔

لیکن کیا واقعی سکیورٹی کے مسئلہ سے نمٹنے کا یہ بہترین یا واحد طریقہ ہے؟ کیا ایسا کوئی راستہ نہیں تھا کہ سانپ بھی مرجاتا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹتی؟ کبھی کبھی پیچیدہ سے پیچیدہ مشکلات کا حل اتنا آسان ہوتا ہے کے اسے غیر سنجیدہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

میرے خیال میں دو کافی آسان متبادل تھے۔ انڈیا میں کرکٹ جنون کی حد تک مقبول ہے لہذا یا تو انتخابات کو ایک دو مہینے کے لیے ملتوی کیا جاسکتا تھا اور اگر آئین کے تحت اس کی گنجائش نہیں تھی تو کرکٹ کے بجائے الیکشن انگلینڈ یا جنوبی افریقہ میں کرائے جاسکتے تھے! لیکن جیسا میں نے کہا ’کامن سینس‘ کی بات کریں تو ارباب اقتدار آپکو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ہمارے زیادہ تر لیڈر لکیر کے فقیر ہیں۔

سیاسی افق پر کرکٹ کے ستارے

لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جو اور کچھ بھی ہو لکیر کا فقیر نہیں ہے۔ اگر آپ نے محمد اظہرالدین کے کرکٹ کیریئر کو فالو کیا ہے تو آپکو یہ تو معلوم ہوگا ہی کہ وہ کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اظہر نے سن چوراسی میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز لگاتار تین میچوں میں سینچریاں لگاکر کیا اور اس کے بعد انہوں نے جو اچھے یا برے کارنامے انجام دیے وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔

اب کہا جارہا ہے کہ اظہر کانگریس کے ٹکٹ پر مراد آباد سے پارلیمنٹ کا الیکشن لڑیں گے حالانکہ پہلے میرٹھ کا چرچا تھا۔ یہ دونوں حلقے مغربی اترپردیش میں ہیں۔ سن چوراسی کے بعد سے اترپردیش میں کانگریں کی حالت پتلی رہی ہے۔ اب وہاں سے کانگریس کے ٹکٹ پرجیتنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ لیکن اظہر جب چاہیں کسی بھی میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔

’اظہر جب چاہیں کسی بھی میچ کا رخ بدل سکتے ہیں‘
،تصویر کا کیپشن’اظہر جب چاہیں کسی بھی میچ کا رخ بدل سکتے ہیں‘

شاید آپکو یاد ہو کہ میچ فکسنگ کے الزامات میں ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے ان پر پابندی عائد کی تھی۔ اظہر نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ الزامات اور پابندی کی سزا کس حد تک درست تھی یہ فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن ہندوستان میں الیکشن جیتے کے لیے آجکل جو صلاحیتیں چاہیئیں وہ اظہر میں موجود ہیں۔( کوئی غلط مطلب مت نکال بیٹھے گا، الیکشن جیتنے کے لیے شہرت، دولت اور پارٹی کی اعلی قیادت تک رسائی بہت ضروری ہے، اور اظہر کے پاس تینوں ہیں)

یوں تو انتخابی نتائج کے بارے میں پیش گوئی کرنا خطرے سے خالی کام نہیں، لیکن پھر بھی میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ مراد آباد کے سٹہ بازار میں ان پر کیا ریٹ مل رہا ہے!

اور نہیں بس اور نہیں

ورن گاندھی الیکشن لڑ بھی پائیں گے یہ ابھی واضح نہیں لیکن پیلی بھیت میں جگہ جگہ دیواروں پر تحریر اس نعرے نے کچھ پرانی یادیں تازہ کردیں:

ورن نہیں آندھی ہے، یہ دوسرا سنجے گاندھی ہے!

ورن گاندھی بی جے پی کے امیدوار ہیں
،تصویر کا کیپشنورن گاندھی بی جے پی کے امیدوار ہیں

جن لوگوں کو سنجے گاندھی اور ان کی یوتھ کانگریس کا دور یاد ہے وہ یہ نعرہ پڑھ کر ہی کانپ جائیں گے۔ سنجے گاندھی کی بدولت مجھے بچپن میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ ’نس بندی‘ کیا ہوتی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غیر شادی شدہ نوجوانوں کو بھی بسوں سے اتار کر انہیں خاندانی منصوبہ بندی کا کبھی نہ بھولنے والا سبق پڑھا دیا جاتا تھا۔ سنجے طاقت کے نشے میں چور تھے اور کچھ مبصرین کے مطابق ان کے سامنے وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی مجبور ہوگئی تھیں۔

سنجے کی ایک فضائی حادثے میں جوانی میں ہی موت ہوگئی تھی لیکن ایمرجنسی کےدوران خاص طور پر مسلمانوں پر جوگزری، اس کی یادیں لوگوں کے دلوں میں ابھی تک تازہ ہیں۔ اور اب (بظاہر) ورن مسلمانوں کے ہاتھ کاٹنے کی بات کر رہے ہیں۔ میں ٹی وی پر جتنی بار ان کی سی ڈی دیکھتا ہوں، بس یہی سوچتا ہوں کہ گاندھی خاندان کے تمام نعروں ( انڈیا از اندرا، اندرا از انڈیا/ غریبی ہٹاؤ دیش بچاؤ/ بدلاؤ کی آندھی، اندرا گاندھی) کی طرح بی جے پی کا یہ نعرہ بھی غلط ثابت ہوجائے۔

کم سے کم میرے خیال میں ہندوستان کو ایک اور سنجے گاندھی کی ضرورت نہیں ہے۔