کانگریس کا گھر بھی شیشے کا ہی ہے!

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی

وزیر اعظم منموہن سنگھ کافی خاموش طبع اور نرم گفتار ہیں لیکن کانگریس کا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی کے بارے میں کہا کہ:

  • اڈوانی نے بابری مسجد کی مسماری میں کلیدی کردار ادا کی۔
  • گجرات میں جب قتل عام ہورہا تھا تو اڈوانی ہی وفاقی وزیر داخلہ تھے اور پارلیمنٹ پر حملہ بھی انہیں کے دور اقتدار میں ہوا تھا۔
  • جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بھی انہیں کی نگرانی میں رہا کیا گیا۔

یہ تینوں ہی الزام/ مشاہدے درست ہیں لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔

<link type="page"><caption> یہ کیا ہو رہا ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/03/090320_india_elections_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کرکٹ زیادہ ضروری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/03/090323_polls_diary_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

انیس سو انچاس میں جب بابری مسجد میں ‏‏‏زبردستی مورتیاں نصب کی گئیں تو جواہر لال نہرو ملک کے وزیر اعظم تھے۔ یہ مورتیاں کبھی نہیں ہٹائی جاسکیں۔

انیس سو چھیاسی میں (اڈوانی کی سومناتھ سے اجودھیا تک کی رتھ یاترا سے پانچ سال قبل) جب بابری مسجد کا تالا کھول کر ہندوؤں کو وہاں بلا روک ٹوک عبادت کی اجازت دی گئی تو راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔

انیس سو نواسی میں جب اجودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد (شلانیاس) رکھا گیا اس وقت بھی راجیو گاندھی ہی وزیر اعظم تھے۔

انیس سو بانوے میں جب بابری مسجد مسمار کی گئی اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اس وقت نرسمہا راؤ وزیر اعظم تھے۔

یہاں تک میری معلومات ہے ان میں سے کسی کا تعلق بی جے پی سے نہیں تھا۔ اور منموہن سنگھ کو شاید یاد ہوگا کہ جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہزاروں سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تو راجیو گاندھی نے یہ یادگار جملہ ادا کیا تھا کہ ’جب کوئی بڑا درخت گرتا ہے تو زمین ہلتی ہی ہے!‘

کانگریس کا اپنا گھر بھی شیشے کا ہی ہے۔

نہ بجلی نہ پانی، چاول تو ہوں

کانگریس حامی
،تصویر کا کیپشنکانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں تین روپے کلو چاول فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے

انتخابات سے قبل تمام پارٹیاں غریب ووٹروں کو رجھانے کی کوشش میں کسی بھی حد سے گزر جانے کو تیار نظر آرہی ہیں۔ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں تین روپے کلو چاول فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہےتو سنا ہے کہ بی جے پی اور ایک قدم آگے جانے کو تیار ہے اور دو روپے کلو چاول مہیہ کرانا چاہتی ہے۔

ہندوستان کے بڑے شہروں میں رہ کر دیہی علاقوں کی غربت کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ وہاں نہ بجلی ہے نا پینے کا صاف پانی۔ حفظان صحت اور تعلیم کا کوئی معقول انتظام نہیں۔ سرکاری دوا خانے تو جگہ جگہ ہیں لیکن دوائیں اور ڈاکٹر کہیں نہیں ہیں۔ سکول بھی موجود ہیں لیکن تعلیم کا انتظام نہیں ہے۔ اسی لیے بی جے پی کا انڈیا شائننگ کا نعرہ پارٹی کے گلے پڑ گیا تھا۔

بہار، مدھیہ پردیش، جھاڑکھنڈ، چھتیس گڑھ، راجستھان، مشرقی اترپردیش اور اڑیسہ کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں جاکر یہ یقین نہیں آتا ہے کہ دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہوگئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی نظروں میں یہ سکیمیں رشوت ہی صحیح لیکن ان غریبوں کے لیے زندگی کا آسرا ہیں۔زندگی کے بدلے میں ووٹ، سودا برا نہیں ہے۔

ایسا بھی ہوتا ہے

جمعرات کو قومی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں ایک ایسی خاتون(سکا پگاڈالو) کی خبر چھپی ہے جو سن بہتر میں آندھرا پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہوئی تھی اور اب مزدوری کرکے گزارا کرتی ہے۔ اس غیر معمولی سیاست دان کا تعلق پسماندہ طبقات سے ہے۔

اس خاتون کی کہانی حیرت انگیز تو ہے لیکن ہندوستان میں انتخابی سیاست کی بدلتی ہوئی شکل کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بات اگرچہ صرف پینتیس سال پرانی ہے لیکن اس مدت میں ہی الیکشن لڑنا متوسط طبقے کے بس سے باہر کی بات ہوگئی ہے۔

اب الیکشن لڑنے کے لیے تو بے پناہ پیسہ چاہیے ہی کچھ پارٹیاں ٹکٹ بھی فروخت کر رہی ہیں۔ پارٹی کا نام تو نہیں لے سکتا لیکن سنا ہے کچھ ٹکٹ ایک کروڑ روپے تک میں فروخت ہوئے ہیں۔

یہ ووٹ بینک کی سیاست ہے۔ اس میں سکا پگاڈالو جیسی سیاست دانوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں۔