شدت پسندی ایک مشترکہ خطرہ: ہالبروک

ہولبروک
،تصویر کا کیپشنہولبروک پاکستان کے بعد ہندوستان آئے ہیں

جنوبی ایشیاء کے دورے پر آئے پاکستان کے لیے امریکی کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک نے ہندوستان کے اپنے دورے کے دوران کہا ہے کہ شدت پسندی ہندوستان ، پاکستان اور امریکہ کے لیے ایک کامن خطرہ ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے تینوں ممالک کو مل کر لڑنا ہوگا۔

افغانستان پھر پاکستان اور اب ہندوستان کے دارلحکومت دلی پہنچے رچرڈ ہالبرک نے بدھ کو قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن کے علاوہ اہم رہنماؤں سے ملاقات کی اور پاکستان اور افغانستان کے حالات کے بارے میں بات چيت ۔

امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی ہندوستان، پاکستان اور امریکہ کے لیے کامن خطرہ ہے اور اس کا حل بھی ایک ساتھ مل کر ہی نکالا جاسکتا ہے۔

رچرڈ ہالبرک کا کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے بعد پہلی بار پاکستان، ہندوستان اور امریکہ کو ایک کامن خطرہ لاحق ہے۔ ہمارے سامنے ایک کامن حدف ہے جسے ہمیں ایک ساتھ مل کر حاصل کرنا ہے، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی ایک تاریخ رہی اور ایسی ہی تاریخ ہندوستان اور پاکستان کی ہے۔ ہم اس تاریخ اور اس سے جڑے جزبات کی عزت کرتے ہيں۔

رچرڈ ہالبرک نے اس بات کا بھی اعتراف کیا اس وقت تینوں ممالک کی اندورونی سیکورٹی داؤں پر ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حالانکہ امریکہ کی نئی حکومت شدت پسندی سے نمٹنے لیے سنجیدہ ہے لیکن یہ آسان نہیں ہوگا۔

امریکہ کے صدر باراک اوباما کے افغانستان اور پاکستان سے متعلق اپنی نئی پالیسی کے اعلان کے بعد راچرڈ ہالبرک کا یہ پہلا جنوبی ایشائي دورہ ہے ۔

رچرڈ ہالبرک کا کہنا تھا بھارت نے اب تک ہندوستان کے ساتھ علاقائی اور عالمی مسائل پر بات چیت نہیں کی تھی اور اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ ہندوستان کے دورے پر آئے ہیں۔

انکا کہنا تھا افغانستان کے علاوہ خطے کے دیگر مسائل ہندوستان کی مدد کے بغیر حل نہیں کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کے حوالے سے جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیاامریکہ نے ہندوستان سے پاکستان کے ساتھ کشمیر مسئلے سمیت دیگر مسائل پر مذاکرات کرنے کی بات کہی ہے تو انکا کہنا تھا کہ ان کے اس دوے کا مقصد ہندوستان کو پاکستان اور افغانستان کے حالات آگاہ کرانا ہے نہ کے اسے یہ بتانا کہ وہ پاکستان سے بات چیت کرے یا نہیں۔

رچرڈ ہالبرک کے ساتھ ساتھ امریکی کے فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشاء میں امن قائم کرنے کے لیے ہندوستان کا رول اہم اور خطے میں ہندوستان ایک کا اہم قام جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔