جیا پرادا کی سیاست

جیا پرادا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، رامپور

بالی وڈ سٹار اور سماجوادی پارٹی کی رہنما جیا پردا اترپردیش کے رامپور پارلیمانی حلقے سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں بھی انہوں نے یہ سیٹ جیتی تھی لیکن اس مرتبہ انہیں پھر رامپور سے ٹکٹ دیے جانے پر سماجوادی پارٹی میں ہی شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایک طرف سینئر لیڈر امرسنگھ ہیں اور دوسری طرف سابق وزیر محمد اعظم خان جن کا تعلق رامپور سے ہی ہے اور جو اب جیا پردا کی ڈٹ کر مخالفت کر رہے ہیں۔

رامپور میں جیا پردا کا مقابلہ بی جے پی کے مختار عباس نقوی، اور نواب رامپور کی اہلیہ بیگم نور بانو سے ہے جو کانگریس کی امیدوار ہیں۔بی بی سی اردو سروس نے رامپور میں جیا پردا سے تفصیلی بات چیت کی اور پہلے یہ پوچھا کہ ان کے ٹکٹ پر تنازعے کی وجہ کیا ہے؟

ج) یہ مجھے پتہ نہیں۔ پتہ ہوتا تو ضرور بتا دیتی۔ نہ ہی ہمارے نیتا ملائم سنگھ جی کو پتہ ہے۔ جب میں پانچ سال پہلے آندھر پردیش سے آئی تھی تو انتخاب لڑنے نہیں آئی تھی۔ میں صرف سماجوادی پارٹی میں کام کرنے آئی تھی۔ مجھے رامپور لے کر آئے تھے ہمارے بڑے بھائی اعظم خان صاحب اور اس وقت اگر پانچ سال پہلے میں بن سکتی تھی تو اب کیوں نہیں بن سکتی، یہ مجھے معلوم نہیں۔

جنتا مجھے بے حد پیار کرتی ہے۔ بار بار یہی سننے کو ملتا ہے کہ میں ممبئی کی رہنے والی ہوں، دکشن سے آئی ہوں، ہوائی جہاز میں گھومنے والی ہوں۔ لیکن یہ سب سچ ہے۔ ممبئی اور دکشن سے آنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ یہ بھی بھارت کے حصے میں۔ مجھے فخر ہے کہ میں بھارت کی بیٹی ہوں۔

س) یہ بتائیں کہ اظہرالدین کو آپ آندھر پردیش کے لوگوں کو یہ علاقہ کیوں پسند آتا ہے، مراد آباد اور رامپور کا؟

ج) جب سونیا گاندھی اتر بھارت سے جا کر کرناٹک سے لڑ سکتی ہیں اور سشما سواراج بھوپال سے لڑ سکتی ہیں تو میں کیوں اتر پردیش سے نہیں لڑ سکتی۔ بھارت میں ہم سب ایک ہیں۔ ہمیں لوگوں نے بہت پیار دیا اسی لیے ہم کلاکار بنے اور اسی وجہ سے ہم رامپور تک پہنچ سکے۔

س) کلیان سنگھ اس وقت اترپردیش کے وزیر اعلیٰ تھے جب بابری مسجد گرائی گئی تھی۔ تو ضرورت کیا ہے کلیان سنگھ کی ملائم سنگھ کو؟

ج) سیاست میں کبھی مستقل دشمنی نہیں ہوتی ہے۔ سیاست میں تبدیلی ہوتی اور اس پارٹی سے اس پارٹی میں جانا بھی ہوتا ہے۔

س) یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے پارٹیاں بنتی ہیں۔ ملائم سنگھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں اور ان کے حقوق کے لیے لڑنا چاہتے ہیں، کلیان سنگھ اس کے بالکل دوسری طرف کھڑے ہیں۔ ان سے ہاتھ ملانے میں کیا فائدہ ہے؟

ج) میں نے یہ نہیں کہا کہ کلیان سنگھ اس میں (بابری مسجد کی مسماری میں) ذمہ دار نہیں ہیں۔ لیکن بی جے پی کو جس نے اللہ کا گھر توڑا ہے اگر جواب دینا ہو تو کانٹے کو کانٹے سے ہی نکال سکتے ہیں۔ اگر کلیان سنگھ کو بی جے پی سے لڑا کر اسے ختم کیا جا سکتا ہے تو کیوں استعمال نہ کیا جائے۔کلیان سنگھ ملائم سنگھ کے پاس جب آ رہے ہیں تو شاید ان کی سوچوں میں تبدیلی آئی ہے۔

س) رامپور میں اعظم خان کی مخالفت کی وجہ سے آپ کی کامیابی کے امکانات کس حد تک متاثر ہوں گے؟

ج) میں سیاست اور رشتہ داری کو الگ الگ دیکھتی ہوں۔ میں نے اعظم بھائی کو کبھی ایک نیتا کے روپ میں نہیں بلکہ بڑے بھائی کے روپ میں دیکھا تھا۔ میں ان کے گھر عید پر جاتی تھی۔ ان کی کلائی پر راکھی باندھتی تھی۔ میں ابھی بھی ان کو اپنا بڑا بھائی مانتی ہوں اور مانوں گی۔ اب وہ میرے ساتھ نہیں ہیں تو یہ کمی تو ہے۔ میدان میں اترنے کے بعد اب جتنا مجھ میں دم ہے تومیں لڑوں گی۔ میں نے لوگوں کی دل سے سیوا کی ہے اور لوگ مجھے دل سے پیار کرتے ہیں۔

س) یہ بتائیں کہ آپ نے پچھلے پانچ سال میں کیا کیا ہے کہ آپ رامپور کے ووٹر سے کہہ سکیں کہ میرا حق کہ تم مجھے ووٹ دو؟

ج) جب میں پہلی بار یہاں آئی تھی تو ایک اداکارہ کے روپ میں آئی تھی تو لوگوں کا خیال تھا کہ شاید کوئی تبدیلی آئے۔ میں نے لوگوں کی امیدوں کو حقیقت کا روپ دیا ہے۔ بڑے بڑے پل بنوائے، دیہاتوں میں کام کیا ہے، بلڈ بینک بنوائے ہیں، ڈگری کالج بنوائے ہیں۔ لڑکیوں کے لیے انٹرکالج بنوائے۔

س) لوگوں سے بات کرنے سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ قومی سطح پر یہ کہ آپ یہاں پر بی جے پی کے سیٹ اپ سے بہت قریب ہیں۔ بہت دنوں سے پریس میں اور سیاسی حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ ملائم سنگھ کی در پردہ بی جے پی سے انڈرسٹینڈنگ ہے؟

ج) میں اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتی کیونکہ بی ایس پی اور بی جے پی ایک سکے کے دو پہلو ہیں۔ مایاوتی جب بھی ریاست کی وزیر اعلیٰ بنی بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے کے بعد بنیں۔ملائم سنگھ جی کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مسلمان ان کی حمایت ختم کر دیں۔ سماجوادی پارٹی اور ملائم سنگھ جی ہمیشہ مسلمانوں کے مشکل میں کام آئے ہیں۔

س) یہ نہیں سمجھ میں آ رہا کہ ملائم سنگھ یادو کانگریس کے ساتھ ہیں، تیسرے محاذ کے ساتھ ہیں یا الگ ہیں؟

ج) ہم نے ایک مسئلے پر نیوکلیئر ڈیل کے مسئلے یو پی اے کی حکومت کی حمایت کی تھی۔ ہم نے ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے اس نیوکلیئر ڈیل کی حمایت کی تھی۔ اترپردیش میں کانگریس کا کوئی وجود نہیں۔ اس کا ہمارے ساتھ آنے میں فائدہ ہے۔

س) اس وقت ملائم سنگھ کانگریس کے ساتھ ہیں یا تیسرے محاذ کے ساتھ؟

ج) ہم اکیلے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم الگ ہیں۔ ہم نے بہت کوشش کی ہے۔ انتخابات میں سترہ نشستوں کی پیشکش بھی کی اور سونیا جی اور راہول جی کی سیٹیں بھی چھوڑ دی تھیں پھر بھی اگر پچیس نشستیں نہیں ہو سکتی تو کہاں سے لائیں گے۔

س) چلیئے میں اسی سوال کو دسری طرح پوچھتا ہوں۔ سماجوادی پارٹی کانگریس کے زیادہ قریب ہے یا تیسرے محاذ کے؟

ج) ہم سیکولر قوتوں کے ساتھ ہیں۔ آجکل جو تیسرا محاذ بن رہا ہے اس میں مایاوتی جی کو پردھان منتری بنانے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں۔ جہاں پر مایا وتی جی ہیں جہاں پر چندر بابو نائڈو جی ہیں، انہوں نے نیکویئر ڈیل کی مخالفت کی تھی۔ ہماری براہ راست مخالفت یا مقابلہ مایاوتی جی کے ساتھ ہے۔ تو جب تیسرے محاذ میں یہ سب لوگ شامل ہیں تو ہمارے دروازے ابھی بھی کانگریس کے لیے بند نہیں ہیں۔

س) یعنی آپ کہہ رہی ہیں کہ نہ کانگریس کے ساتھ ہیں نہ تیسرے محاذ کے، بس مایا وتی کے خلاف ہیں؟

ج) جی ہاں

س) سنجے دت کی سیاست میں کیا خدمات ہیں کہ پارٹی نے انہیں جنرل سیکرٹری بنا دیا؟

ج) بہت خدمات ہیں۔ انہوں نے اگر کچھ غلط کیا ہے تو اس کی ان کو سزا مل گئی۔ گاندھی کا جو پرچار کیا وہ سنجے دت نے کیا تھا۔ ان کے ماتا پیتا سنیل دت اور نرگس نے دیس کی خدمت کی۔ اگر وہ آ کر ہماری پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیکولر خیالات کا پرچار کرنا چاہتے ہیں تو ہم انہیں کیوں نہیں بلا سکتے۔

س) آپ ضرور بلا سکتی ہیں۔ لیکن خدمت کرنا اوپر سے کیوں ضروری ہے، نیچے سے نہیں ہو سکتی۔ جنرل سیکرٹری سے وہ نیچے تو نہیں آئیں گے۔ نیچے سے کام کرتے ہوئے اوپر جاتے ہیں؟

ج) سنجے دت بہت بڑے سٹار ہیں۔ وہ اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا کر آئے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتے تھے۔

س) وومن ریزرویشن بِل لالو پرساد یادو اور ملائم سنگھ یادو کی وجہ سے منظور نہیں ہو پایا۔ آپ اس کے لیے کیا کوشش کریں گی؟

ج) اس سے پہلے میں چندربابو نائڈو کی پارٹی تیلیگو دیسم کی طرف سے راجیہ سبھا میں تھی۔ اس وقت میں نے خواتین کے لیے تینتیس فیصد کوٹے کی بات تھی۔ ہمارے پارٹی یا اس کے رہنما بھی اس کے خلاف نہیں ہیں۔ لیکن بِل میں ناقابل عمل باتیں ہیں۔ سب جماعتوں کو بلایا جائے اور بحث کی جائے۔ ہم نے کبھی منع نہیں کیا۔

س) جس تیزی سے فلمی ستارے سیاست میں آ رہے ہیں اور جیسے اب امر سنگھ جی فلموں کی طرف جا رہے ہیں تو کیا یہ سیاست کے لیے اچھی بات ہے؟

ج) جب وکیل، ڈاکٹر، تاجر بن کر سیاست میں آ سکتے ہیں تو فلمی ستارے کیوں سیاست میں نہیں آ سکتے۔ یہ درست ہے کہ اکا دکا مثالیں ہیں کہ فلمی ستارے سیاست میں آئے اور جلد ہی واپس چلے گئے لیکن دوسری مثالیں بھی بہت ہیں۔ فلمی ستاروں کے پاس دولت اور شہرت کی کمی نہیں ہوتی۔ انہیں بہت پیار ملتا ہے لوگوں سے اور سیاست بہت مشکل کام ہے جس کے لیے کئی بار وہ تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے کچھ لوگ چھوڑ بھی جاتے ہیں۔