رائے گڑھ: کانگریس بمقابلہ شیو سینا

ایک مسلم ووٹر
،تصویر کا کیپشنرائے گڑھ میں لوگوں کی ایک ایک بڑی تعداد ماہی گیری سے وابستہ ہے
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، رائے گڑھ

ضلع رائے گڑھ مہاراشٹر کا واحد ایسا پارلیمانی حلقہ سے جہاں سے کانگریس نے ایک مسلم امیدوار، عبدالرحمن انتولے، کو ٹکٹ دیا ہے۔ان کے مقابلے میں شیوسینا اور بی جے پی اتحاد کے امیدوار اننت گیتے ہیں۔ الیکشن یہاں تیئس اپریل کو ہوں گے اس لیے فی الحال گہماگہمی میں کمی ہے۔صرف پارٹی ورکروں میں جوش پایا جاتا ہے۔

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر انتولے چار مرتبہ سے اسی علاقے سے ایم پی ہیں اور یہ ان کا پانچواں الیکشن ہے۔اسّی سالہ انتولے اس وقت سرخیوں میں آئے جب انہوں نے گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے حملوں میں ہلاک ہوئے انسداد دہشت گردی سکواڈ کے جوائنٹ پولیس کمشنر ہیمنت کرکرے کی موت پر سوالیہ نشان کھڑا کیا تھا۔

کانگریس اور شیوسینا دونوں کے لیے یہ سیٹ ان کے وقار کا مسئلہ ہے۔اس مرتبہ شیو سینا کو یہاں کی کسان اور مارکسی نظریات کی حامل پیزنٹ ورکرز پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔سات امیدوار میدان میں ہیں لیکن مقابلہ انتولے اور گیت کے درمیان ہے۔

رائے گڑھ کی آبادی سن دو ہزار ایک کی مردم شماری ریکارڈ کے مطابق تیرہ لاکھ ہے۔کوکن کا یہ علاقہ کافی ہرا بھرا ہے اور سمندر کے اطراف ہونے کی وجہ سے یہاں ناریل اور آم کے بے شمار درخت ہیں۔یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں ماہی گیر کسانوں اور کنبی بھنڈاری جیسے پسماندہ طبقات کے افراد آباد ہیں۔

ممبئی سے دو سو کلومیٹر دور اس علاقے میں پانی کی بہت قلت ہے۔ پینے کا صاف پانی سرکاری نل میں دو دن میں صرف ایک مرتبہ ایک گھنٹہ کے لیے آتا ہے اور اس کے لیے لوگ قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ کنویں ہیں اس لیے گھر کی عورتیں کنویں کے پاس آکر گھر کے کپڑے دھوتی ہیں۔

روزانہ آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چھوٹے پیمانے پر بھی کوئی صنعت نہیں کی جا سکتی ہے۔بجلی کے تار زمین دوز نہیں ہیں اس لیے ذرا سا آندھی طوفان آیا کہ بجلی غائب یہی حال ٹیلی فون کا ہوتا ہے۔ دنیا سے رابطہ ہی ٹوٹ جاتا ہے۔موبائیل فون کے نیٹ ورک نہیں ہوتے اور سڑکیں خراب ہیں۔

رائے گڑھ کے مسلمان زیادہ تر مراٹھی زبان ہی بولتے ہیں اور کبھی کبھی تو انہیں ان کے لب و لہجہ کی وجہ سے ان کے مذہب یا ان کے فرقہ سے پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن فرقہ پرستی کا زہر دھیرے دھیرے یہاں کی فضا میں بھی گھلتا جا رہا ہے۔

رائل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں کمپیوٹر انسٹرکٹر عارف انصاری کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے شری وردھن کا بورلی علاقہ بہت حساس ہو گیا ہے۔ورنہ پہلے ایسا نہیں تھا۔اب ہندو لڑکے مسلمانوں کے ساتھ نہیں رہتے۔

رائے گڑھ کے بیشتر علاقے فرقوں کی بنیاد پر بٹے ہوئے ہیں۔ایک طرف پوری آبادی اگر ہندؤں کی ہے تودوسری جانب سارے مسلمان۔ایک علاقہ اگر ماہی گیروں کا ہے تو دوسرا علاقہ کسانوں کا۔

رائے گڑھ کے شری وردھن علاقے میں خواتین ووٹروں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔تحصیلدار انجلی بھوسلے کے مطابق 24983 مرد رائے دہندگان کے مقابلے 31610 خواتین ووٹر ہیں۔

سماجی کارکن سندھیا پاٹل کے مطابق یہاں مردوں کی اوسط عمر پینتیس اور چالیس کے قریب ہے۔ ان کے مطابق یہاں مرد یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور رات میں دیسی شراب پیتے ہیں۔غذا کی کمی اور شراب کی زیادتی کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو جاتی ہے اس کے علاوہ ان میں بیشتر مرد شہروں میں جا کر کام کرتے ہیں اور آتے ہیں تو شہر سے لائے ہوئے ایچ آئی وی ایڈز اپنی بیویوں کو دیتے ہیں۔

پاٹل کے مطابق حکومت کو یہاں کی عورتوں کو روزگار فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ تو بھر سکیں۔عورتیں تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔لڑکیاں پڑھنا چاہتی ہیں لیکن ان کے پاس فیس کے پیسے نہیں ہیں۔اگر قرض لیتی ہیں تو زندگی بھر اس کے سود کے چکر میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔

ماہی گیروں کی بڑی تعداد یہاں آباد ہے۔ یہ سمندر میں روزانہ مچھلی پکڑنے کے لیے نکلتے ہیں۔لیکن زیادہ تر ان میں دوسروں کی کشتی پر کام کرتے ہیں۔جب سیزن ہوتا ہے تب انہیں دو سو یا تین سو روپے بھی مل جاتے ہیں لیکن بارش کے موسم میں جب انہیں سمندر میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تب وہ چار ماہ وہ انتہائی کسمپرسی میں گزارتے ہیں۔

ان سب کے علاوہ اب یہ علاقہ بہت تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ رائے گڑھ کے دیواگری علاقے کے لیے ریاستی حکومت نے چودہ کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔وہ اس علاقے کو منی گوا بنانے کی تیاری میں ہیں۔

یہاں کا ساحل بہت خوبصورت ہے۔ اطراف میں ناریل اور آم کے درخت لگے ہیں۔کرشنا بالا جی رام توڑنکر کے مطابق یہاں چند برس قبل زمین کی کھدائی پر پورے طور پر سونے کے گنیش جی بھگوان کی مورتی نکلی تھی جس کے درشن کے لیے ہندستان کے کونے کونے سے لوگ آنے لگے ہیں، اس لیے سڑکیں بھی بن رہی ہیں اور ریسارٹ بھی کھل رہے ہیں۔یومیہ اجرت پر لوگوں کو سڑک بنانے اور عورتوں کو پتھر توڑنے کا کام مل جاتا ہے۔

رائے گڑھ میں متوسط اور غریب طبقہ کے علاوہ امراء روساء بھی آباد ہیں۔ان کے بڑے بڑے بنگلے ہیں۔خاندان کے افراد جنوبی افریقہ، لندن، امریکہ یا خلیجی ممالک میں ہیں۔ امیر غریب کے درمیان کی یہ خلیج آسانی سے دکھائی دیتی ہے۔سمندری اور کچھ پہاڑی علاقہ اگر سیاحوں کی تفریح کا مرکز بن گیا تو شاید یہ تفاوت بھی کچھ کم ہو جائے۔