سیاسی عدم استحکام کا امکان زیادہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناس بار کے انتخابات میں یہ تصویر واضح نہیں کہ کونسا محاذ کس کروٹ بیٹھے گا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

جو غیر یقینی کی کیفیت ان انخابات میں ہے، وہ پہلے کبھی نہیں تھی اور پہلے مرحلے کی پولنگ سے قبل ہی وسط مدتی انتخابات کے امکان کا ذکر شروع ہوگیا ہے۔

اس کی کئی وجوہات ہیں؟

اب تک جو انتخابی جائزے ہوئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ نئی پارلیمان میں کسی بھی جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہیں ملے گی۔ پارلیمان میں تقریباً برابر طاقت کے تین بلاک ابھر کر آئیں گے۔ حکومت کون بنائےگا، اس کا انحصار ان جماعتوں پر ہوگا جو تیسرے اور چوتھے محاذ سے وابستگی کا دعوی کر رہی ہیں۔

لیکن ان دونوں ہی محاذوں میں چند ایسی جماعتیں شامل ہیں جنہیں کانگریس اور بی جے پی دونوں میں سے کسی کا بھی ساتھ دنیے میں کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے۔ لہذا، اگر انہیں منہہ مانگی سیاسی قیمت ملے گی تو وہ بی جے پی یا کانگریس کے ساتھ بھی جا سکتی ہیں۔

مایا وتی
،تصویر کا کیپشنکوئی نہیں جانتا کہ انتخابات کے بعد مایا وتی کس خیمے کا حصہ بنتی ہیں

مثال کے طور پر تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلی جیا للتا اور اتر پردیش کی وزیر اعلی مایاوتی۔ دونوں کب کیا کر بیٹھیں، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ جیا للتا نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کی دعویدار ہیں لیکن مایاوتی نے دلی پر حکمرانی کی اپنی آرزو کبھی نہیں چھپائی ہے۔

جیا للتا اور مایاوتی دونوں ہی پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کر چکی ہیں۔ مایاوتی نے بی جے پی کے ساتھ ملکر اتر پردیش میں حکومت بنائی تھی۔ معاہدہ یہ تھا کہ پہلے مایاوتی وزیر اعلی بنیں گی اور پھر یہ عہدہ بی جے پی کے حصے میں آئے گا۔ لیکن مایاوتی نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اپنے عہدے کی مدت پوری ہوتے ہی معاہدہ ختم کر دیا۔ اسی طرح جیا للتا نے بھی مرکز میں این ڈی اے کی حکومت کی حمایت کی تھی، لیکن جب ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو سرکار گرا دی۔( اس کے بعد انیس سو ننیانوے میں جو الیکشن ہوئے ان میں پھر این ڈی ایک کی سرکار بنی جو پانچ سال چلی)۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنتیسرے محاذ کی حکومت کے لیے بایاں محاذ کی کوششیں کتنی کامیاب ہوں گی کچھ نہیں کہا جا سکتا

اگر جیا للتا تمل ناڈو کی انتالیس میں سے تقریباً تیس سیٹیں حاصل کر لیتی ہیں، اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی اترپردیش کی اسی میں سے چالیس پر کامیاب ہوجاتی ہے، جسیا کہ بعض جائزوں سے اشارہ مل رہا ہے، تو صورتحال بہت ہی دلچسپ ہوجائے گی۔ ان کی طاقت بڑھنے سے ضروری نہیں ہے کہ تیسرے محاذ کی طاقت بھی بڑھے کیونکہ وہ اپنے الگ راستے جانے میں نہیں ہچکچائیں گی۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر وہ تیسرے محاذ میں رکتی ہیں، تو ہوگا وہی جو وہ چاہیں گی۔

گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں حالات اس مرتبہ ذرا مختلف ہیں کیونکہ یہ مانا جارہا ہے کہ لیفٹ پارٹیز کی طاقت کم ہوگی۔ اس وجہ سے شاید دوسری جماعتوں پر وہ زیادہ دباؤ ڈالنے کی حیثیت میں نہ رہیں۔

تو کیا کانگریس کی حمایت سے مایاوتی وزیر اعظم بن سکتی ہیں؟ مجھے اس میں بہت شبہہ ہے۔ زیادہ تر مبصرین کی یہ رائے ہے کہ کانگریس مایاوتی یا تیسرے محاذ کی حمایت کرنے کے مقابلے میں اپوزیشن میں بیٹھنا زیادہ پسند کرے گی۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنکانگریس کو بھی بایاں محاذ کی شرطیں منظور نہیں ہوں گي

تیسرا محاذ اگر اتنی سیٹیں حاصل نہیں کرسکا کہ حکومت سازی کا دعوی پیش کر سکے تو وہ بی جے پی کو اقتدار سے الگ رکھنے کی کوشش میں کانگریس کی حمایت کر سکتا ہے۔ لیکن اس کی کوشش یہ ہوگی کہ کانگریس منموہن سنگھ کی جگہ کسی اور کو وزیر اعظم بنائے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ منموہن سنگھ جوہری ڈیل کے علم بردار ہیں اور لیفٹ پارٹیز اس ڈیل کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن مبصرین کے مطابق کانگریس کو یہ شرط بھی منظور نہیں ہوگی۔

اس بات کا بہت کم ذکر ہےکہ قومی جمہوری اتحاد بھی حکومت بناسکتا ہے۔ رسہ کشی تیسرے اور چوتھے محاذ اور کانگریس کے درمیان ہی ہوگی۔ یہ ایسی عجیب و غریب صورتحال ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

لیکن اس طرح کے تجربہ نوے کی دہائی میں پہلے کئی مرتبہ ہو چکے ہیں۔ چرن سنگھ، چندر شیکھر، اندر کمار گجرال اور ایچ ڈی دیوے گوڑا سبھی کانگریس کی حمایت سے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچے تھے لیکن ان میں سے کسی کی بھی سرکار زیادہ نہیں چل پائی کیونکہ یہ کانگریس کے حق میں نہیں تھا۔

اگر کانگریس کی حمایت سے یا حمایت کے بغیر بھی تیسرے محاذ کی اقلیتی سرکار بنتی ہے، تو خطرہ یہ ہی ہے کہ کانگریس کوئی مناسب موقع تلاش کرکے وسط مدتی انتخابات کرانے کی کوشش کرے گی۔ ایک صورتحال یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کوئی بھی گروپ حکومت سازی کی کوششوں میں پہل نہ کرے کیونکہ جو بھی حکومت بنے گی وہ اپنے اجنڈے پر کھل کر عمل کرنے کی حیثیت میں نہیں ہوگی۔

ایسے میں ہوسکتا ہےکہ سیاسی تعطل کو ختم کرن کے لیے وسط مدتی انتخابات ہی واحد راستہ رہ جائیں۔ اور یہ اس ڈیڑھ دو سالہ مدت سے بھی کافی پہلے ہوسکتا ہے جس کا مبصرین ذکر کر رہے ہیں۔