پہلے مرحلے کی انتخابی مہم ختم

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انڈیا میں پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کی مہم منگل کو شام پانچ بجے ختم ہوگئی لیکن کسی اہم انتخابی موضوع کی عدم موجودگی میں سیاسی صورتحال بدستور غیر واضح ہے۔
ایوان زیریں یا لوک سبھا کی پانچ سو ترتالیس سیٹوں کے لیے پانچ مراحل میں پولنگ کرائی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں جمعرات کو پندرہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں کے ایک سو چوبیس حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔
پولنگ کے لیے پورے ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کی جائیں گی۔
پہلے مرحلے میں جو اہم راہنماء میدان میں ہیں ان میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ اور وزیر ریلوے لالو پرساد یادو، بی جے پی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی، اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک ( ریاستی اسمبلی کے لیے)، کانگریس کی شعلہ بیان رہنما اور خواتین کی بہبود کی وزیر رینوکا چودھری اور شہری ہوابازی کے وزیر پرفل پٹیل (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) نمایاں ہیں۔
لالو یادو سارن حلقے سے میدان میں ہیں جہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے نوجوان راہنما راجیو پرتاپ روڈی سے ہے۔ مرلی منہوہر جوشی سن دو ہزار چار میں الہ آباد سے ہارنے کے بعد اس مرتبہ وارانسی سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں جہاں ان کا مقابلہ بی ایس پی کے مختار انصاری سے ہے جو انڈرورلڈ کے ڈان مانے جاتے ہیں۔
فی الحال کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جسے کسی بھی جماعت نے پورے ملک میں اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا ہو۔
کانگریس نے گزشتہ پانچ برسوں میں اقتصادی ترقی کی رفتار اور اپنی حکومت کے ریکارڈ کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سکیورٹی کی صورتحال پر زیادہ زور دیا ہے۔ پارٹی نے منموہن سنگھ کو ایک کمزور وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جس کے بعد سے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
انتخابی مہم کے دوران ناشائستہ زبان کا استعمال اس حد تک بڑھا کہ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو یہ ہدایت جاری کی کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچھلی لوک سبھا میں دو بڑے سیاسی اتحاد تھے لیکن سیٹوں کے بٹوارے پر اختلافات کی وجہ سے دونوں ہی بکھر گئے ہیں اور زیادہ تر جماعتیں تنہا ہی انتخابی میدان میں اتری ہیں۔
بہار میں لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان، اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو اور تمل ناڈو میں ڈاکٹر ایس رام داس کی پی ایم کے نےکانگریس کی قیادت والے متحدہ ترقی پسند محاذ یا یو پی اے سے علیحدگی اختیار کی ہے جبکہ اڑیسہ میں بیجو جنتا دل، آندھر پردیش میں تیلگو دیسم اور تمل ناڈو میں جیا للتا نے قومی جمہوری اتحاد یعنی این ڈی اے سے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔
یہ جماعتیں اب دو الگ الگ محاذوں میں شامل ہیں۔ تیسرے محاذ میں شامل لیفٹ پارٹیز، جنتا دل سیکولر ( ایچ ڈی دیوی گوڑا) بیجو جنتا دل، آل انڈیا انا ڈی ایم کے، تیلگو دیسم ( آندھر پردیش) اور بہوجن سماج پارٹی مٹھی بھر حلقوں میں مفاہمت کو چھوڑ کر الگ الگ ہی الیکشن لڑ رہی ہیں اور انتخابات کے بعد ایک غیر کانگریسی، غیر بی جے پی حکومت بنانے کی کوشش کریں گی۔
چوتھے محاذ میں راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی اور لوک جن شکتی پارٹی ( پاسوان) شامل ہیں جنہوں نے سیٹوں کی تقسیم پر سمجھوتہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ پارٹیاں کانگریس سے الگ ہوئی ہیں لیکن انہوں نے انتخابات کے بعد کانگریس کی حمایت کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
دوسرے مرحلے کی پولنگ تئیس اپریل کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی سولہ مئی کو کی جائے گی۔




















