جارج فرنانڈس کی کشمکش

جس عمر میں ہندوستان کے ایک اہم رہنما ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں وہیں اٹھتر سالہ جارج فرنانڈس بہار کے مظفرپور پارلیمانی حلقے سے سیاسی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔
اس کے علاوہ جارج یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ انکی صحت پر اٹھائے جانے والے سوال 'غیر صحت مند' ہیں۔ ایک مضبوط ٹریڈ یونین لیڈر سے ہندوستان کے وزیر دفاع تک کا سفر طۓ کر چکے جارج فرنانڈس ایک فائٹر سیاست داں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ملک میں کانگریس مخالف اور بہار میں لالو پرساد کے دوران حکمرانی کے خاتمے کے لیے زبردست تحریک کا اہم حصہ رہے جارج سیای تنہائی کے شکار نظر آتے ہیں۔
جارج فرنانڈس گزشتہ پارلیمانی انتخاب کے دوران مظفرپور سے نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائٹیڈ کے ٹکٹ پر فتح یاب ہوئے تھے مگر اس بار انہیں 'انکی پارٹی' نے انکی صحت کو اس قابل نہیں مانا کہ انہیں لوک سبھا کا الکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ دیا جائے۔
نتیجے میں 1977 میں مظفرپور سے پارلیمانی کی رکنیت کا سفر شروع کرنے والے جارج فرنانڈس اس بار بطور آزاد امیدوار 'ٹوکری' کا نشان لیکر لوک سبھا کا الکشن لڑ رہے ہیں۔
نتیش کمار ہمیشہ جارج فرنانڈس کو اپنا گارجین بتاتے ہیں لیکن دونوں کے درمیان پہلے قطع کلامی شروع ہوئ اور اب پوشیدہ الفاظ میں دونوں ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
جارج فرنانڈس کی شکایت ہے کہ انکے خلاف یہ افواہ پھیلائی گئ کہ وہ الکشن لڑنے کے لیے صحتمند نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'جب سیاست غیر صحت مند ہو جائے تو ایسی افواہوں کا جال بچھایا جاتا ہے'۔
جارج فرنانڈس اس سے قبل نتیش کا گڑھ مانے جانے والے نالندہ پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کر چکے ہیں مگر دونوں کے درمیان سنہ دو ہزار پانچ میں نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے تلخلی کی شروعات ہو چکی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جارج کہتے ہیں 'شروعات سے ہی نئی حکومت کے مکھیا(وزیر اعلیٰ نتیش ) نے پارٹی (جے ڈی یو) کے مفکر، کارکن اور لیڈرشپ کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کر لی۔'
این ڈی اے کے کنوینر رہ چکے مسٹر فرنانڈس سنہ دو ہزار چھ میں جنتا دل یونائٹیڈ کے عہدہ صدارت کے لیے ہونے والے انتخاب کے بارے میں کہتے ہیں ' حکومت کے نشے میں نۓ لیڈروں نے پارٹی کے اندر جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔'
اس انتخاب میں سوشلزم کے علمبردار جارج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور شرد یادو پارٹی کے صدر منتخب ہوئے تھے۔جارج کہتے ہیں کہ اس کے بعد تو پارٹی میں ایک شازس کرنے والا خیمہ تیار ہو گیا۔ بقول جارج 'وزیر اعلیٰ (نتیش) اس گٹ کے اوزار بن کر رہ گیے۔ وزیر اعلیٰ بار بار اعلان کرتے رہے کہ میں پارٹی کا گارجین ہوں لیکن سچائ یہ تھی کہ وہ مجھ سے نظریں بچانے لگیں'۔

دوسری جانب نتیش کمار اب بھی یہی کہتے ہیں کہ جارج صاحب انکے سینیر ترین لیڈر ہیں اور پارٹی نے انکی صحت کی خرابی کی وجہ سے ان پر 'الکشن کا بوجھ' ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔
پارلیمان میں ہمیشہ اپنی تقریروں سے سرخیوں میں بنے رہنے والے جارج فرنانڈس کی اسی سینیرٹی کا لحاظ رکھتے ہوۓ جنتا دل یونائٹیڈ نے اب تک انہیں پارٹی سے نکالنے کا اعلان نہیں کیا جبکہ ایک اور سینیر رہنما دگ وجۓ سنگھ کو پارٹی کا امیدوار نہ بناۓ جانے کے بعد آزاد امیدوار الکشن لڑنے کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیا ہے۔
جارج گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے 'سوشلزم کو مضبوط' کرنے کے لیے 'د ادر سائڈ' نام کی ایک میگزین نکال رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'بہار میں ایک تانا شاہی ہے اور انتخاب لڑنے کا میرا فیصلہ اسی کی مخالفت میں ہے'۔
ووٹ پانے کے لیے وہ بتارہے ہیں کہ مظفرپور کی ترقی کے لے انہوں نے بہت کوششیس کیں جسمیں تھرمل پاور اسٹیشن، دوردرشن کا مرکز اور ریل پل بنوانے جیسے کام شامل ہیں۔
مظفرپور سے اس بار جنتا دل یونائٹیڈ کا ٹکٹ کیپٹن جۓ نارائن نشاد کو ملا ہے جو ٹکٹ ملنے سے پہلے تک لالو پرساد کی پارٹی آر جے ڈی سے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ دوسرے اہم امیدوار لوک جن شکتی پارٹی کے بھگوان لال سہنی ہیں جو پچھلی بار جارج کے خلاف آر جے ڈی کے امیدوار تھے اور اس بار بھی انہیں آر جے ڈی کی حمایت حاصل ہے۔ اسکے علاوہ کانگریس کی ونیتا وجۓ اور آزاد امیدوار وجندر چودھری بھی میدان میں ہیں۔
انکی حمایت میں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا، سابق مرکزی وزیر دگ وجۓ سنگھ اور چند دیگر رہنماؤں نے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے مگر اسکا اثر ہوتا نہیں دکھتا۔ جارج کے حمایتیوں کو امید تھی کہ لالو کرشن آڈوانی اور بی جے پی کے دیگر رہنما جارج فرنانڈس کی مدد میں سامنے آیں گے مگر وہاں بھی انہیں مایوسی ہاتھ لگی۔
اس تناظر میں جارج فرنانڈس ک لیے فتح کی گنجائش دور دور تک نظر نہیں آتی لیکن وہ ہمدردی کی اپیل کر رہے ہیں۔ وہ کہ رہے ہیں 'لوگ سمجھیں کہ یہ میرا آخری انتخاب ہے۔ ہارے یا جیتیں، جدہ جہد تو ہماری زندگی رہی ہے۔





















