بہار میں ذات برادری اور مخفف

- مصنف, ایم ایس احمد
- عہدہ, پٹنہ
ذات برادری کے نام پر ہونے والی سیاسی صف بندی یوں تو کم و بیش پورے ہندوستان میں پائی جاتی ہے لیکن بہار میں بالخصوص الیکشن کے دوران اس کے دلچسپ مخفف اور نام سامنے آتے رہتے ہیں۔
ریاست میں’ مائی‘ یا ’ایم وائی‘ ایکویشن سب سے زیادہ زیرِ بحث رہی ہے جسے لالو پرساد کی طویل عرصے تک حکمرانی کی اہم بنیاد مانا جاتا ہے۔
بہار میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور یادو برادری نے گزشتہ پندرہ بیس برسوں کے دوران لالو پرساد کو ووٹ دیا ہے جس کی وجہ سے میڈیا میں مسلمان یا مسلمز کے پہلے حرف ’ایم‘ اور یادو کے پہلے حرف ’وائی‘ سے ’ایم وائی‘ یا ’مائی‘ ایکویشن بن گئی۔
آج لالو اور ان کے حمایتیوں کو چھوڑ دیجیے تو بہار میں تقریباً ہر سیاست داں اس ’ایم وائی‘ ایکویشن کے زوال کی بات کہتا مل جاۓ گا۔ چار سال پہلے ریاست کے اقتدار سے لالو کے بے دخل ہونے کی ایک اہم وجہ بھی اسی ’زوال‘ کو مانا گیا۔
بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس ایکویشن کے ختم ہونے کے بعد بہار میں ذات برادری کے نام پر ہونے والی صف بندی ختم ہو رہی ہے مگر اب بھی بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس بات کو تسلیم نہیں کرتا۔ اب ’ایم وائی‘ کی جگہ ’ہم‘ اور ’بم‘ ایکویشن کی بات ہو رہی ہے۔
اس الیکشن کے دوران عام راۓ یہ بنی ہے کہ مسلمانوں نے ایک بار پھر کانگریس کی طرف رجوع کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ برہمنوں کا رجحان بھی کانگریس کی طرف بڑھا ہے۔ اب لکھنے اور بولنے والے برہمن اور مسلمانوں کو ملا کر ’بم‘ ایکویشن کی بات کر رہے ہیں۔ کچھ جگہوں پر برہمنوں کے علاوہ بھومیہاروں نے مسلمانوں کے ساتھ ایک ہی امیدوار کو ووٹ دیا تو وہاں بھی ’بم‘ اکویشن کا چرچہ رہا۔
اسی طرح رام ولاس پاسوان اور لالو پرساد کے اتحاد کے بعد بعض حلقوں میں ’پی‘ اور ’وائی‘ سے بننے والے مبینہ ’پائی‘ اکویشن کا بھی چرچا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے مخفف کے لیے کبھی انگریزی تو کبھی ہندی کے حروف کا استعمال ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خود وزیر اعلٰی نتیش کمار ’ہم‘ ایکویشن کی بات کرتے ہیں۔ انکی تقریریوں میں ’ایم وائی‘ اکویشن کے زوال کی بات تو ہوتی ہی ہے، ساتھ میں وہ ’ہندو مسلم‘ یعنی ’ہم‘ ایکویشن کی بات کرنا نہیں بھولتے۔
مزیدار بات یہ ہے کہ جس ’ایم وائی‘ ایکویشن کو لالو کا اتنا مددگار مانا گیا ہے، اس کے بارے میں لالو خود عوامی جلسوں میں شاید ہی چرچا کرتے ہیں۔
گزشتہ بیس سال سے لالو پرساد کی خبریں کور کرنے والے سینیئر صحافی اے کے پانڈے بتاتے ہیں ہیں کہ لالو نے شروع میں بھی کبھی عوامی جلسوں میں اس ایکویشن کی بات نہیں کی مگر ان کی نجی نشستوں میں اس کا چرچا ضرور ہوتا تھا۔ ایسی بیٹھکوں میں شامل صحافیوں نے ہی اس کا استعمال شروع کیا۔
پانڈے کہتے ہیں کہ ایک اور مخفف ’بھورا بال صاف کرو‘ کا ایک زمانے میں لالو کے حوالے سے بہت چرچا تھا مگر حقیقت یہ ہے لالو نے کبھی اعلانیہ طور پر یہ بات نہیں کہی۔ ’بھورا بال‘ دراصل بھومیہار، راجپوت، برہمن اور لالا برادری کے لیے استعمال کیا گیا۔
ذات برادری کی ایسی صف بندی کو ایسے دلچسپ نام پڑوس کے صوبے یو پی میں بھی ملے مگر اس کا چرچا اب نہیں ہوتا۔ مرحوم کانسی رام کی پارٹی کے جلسوں میں اب سے چند برس قبل ’تلک ترازو اور تلوار، انکو مارو جوتے چار‘ جیسے نعرے لگتے تھے۔ تلک سے مراد برہمن، ترازو سے بنیا اور تلوار سے مراد راجپوت برادری ہوتی تھی۔
سیاسی تجزیہ کار اروند موہن کا کہنا ہے ہندی بیلٹ کی سیاست میں ذات برادری کا دخل تو شروع سے رہا ہے مگر منڈل کمیشن کے نفاذ کے بعد ایسی سیاسی صف بندیاں کھل کر سامنے آنے لگیں۔





















