پاسوان کی جدوجہد

- مصنف, ایم ایس احمد
- عہدہ, پٹنہ
رام ولاس پاسوان دارالحکومت پٹنہ سے متصل حاجی پور پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کو جاری رکھنے کی جدہ جہد میں مصروف ہیں۔
پاسوان کہہ رہے ہیں کہ وہ جیت کی ہیٹرک بنایں گے جبکہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کا دعویٰ ہے کہ وہ شکست کا ریکارڈ بنایں گے۔
رام ولاس بہار میں دلت سیاست کے سب سے اہم رہنما مانے جاتے ہیں اور مرکز میں ٹیلی مواصلات اور ریلوے کی وزارت بھی سنبھال چکے ہیں۔ فی الوقت وہ کیمیکل، فرٹی لائزر اور اسٹیل کے محکمے کے وزیر ہیں۔
وہ اٹل بہاری واجپئ کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں بھی وزیر تھے اور گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد بطور احتجاج اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جبکہ انکے مخالف کہتے ہیں کہ وہ پسندیدہ وزارت نہ ملنے کی وجہ سے الگ ہوئے تھے۔
کچھ سال پہلے تک انہیں ملک کا پہلا دلت وزیر اعظم بننے کا اہل بتایا جا رہا تھا لیکن یو پی میں مایاوتی کے عروج پر آنے سے ایسے چرچے کم ہو گیے ہیں۔
چار سال قبل لالو پرساد کے پندرہ سالہ دور حکمرانی کا خاتمہ یوں تو نتیش کمار کا کمال مانا جاتا ہے لیکن سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس وقت لالو کے خلاف رام ولاس کی مہم اور انکی قائم کردہ لوک جن شکتی پارٹی کے سیاسی جوڑ توڑ نے بھی لالو کے زوال میں کافی اہم رول ادا کیا تھا۔
سیاست میں 'ممکنات' کا کمال دیکھیے کہ مسٹر پاسوان اس بار لالو پرساد کے کندھے سے کندھے سے ملاکر اپنے سیاسی کیریر کو عروج پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لالو اور پاسوان دونوں کھلے عام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انکی لڑائی کی وجہ سے ہی آج نتیش کمار بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں۔
اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ ریلوے کی وزارت کا مطالبہ نہ چھوڑنے کی وجہ سے پاسوان لالو سے نالاں تھے اور اسی کا بدلا چکانے کے لیے انہوں نے وہ مہم چلائی کہ جس کی وجہ سے لالو بہار کی سیاست میں بولڈ ہو گیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاسوان کے مد مقابل نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائٹیڈ کے رام سندر داس ہیں۔ مسٹر داس ریاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں لیکن رام ولاس انکی اٹھاسی سال کی عمر کا حوالہ دیکر انہیں آرام کا مشورہ دے رہے ہیں۔

پاسوان نے گزشتہ اسمبلی الکشن کے دوران اقتدار کی چابی اپنے پاس ہونے کا دعوی کیا تھا۔ وہ اس بار اس نعرے کا زیادہ استعمال نہیں کر رہے لیکن ان کے مخالف اس نعرے کو بھولے نہیں ہیں۔ وزیر اعلی نتیش کمار اپنی پارٹی کے امیدوار کے حمایت میں ہونے والے جلسوں میں اقتدار کی چابی اور لالو مخالف انکے پرانے بیانوں کی یاد دلا رہے ہیں۔ نتیش کمار کہ رہے ہیں کہ یہ چابی پاسوان نہیں، عوام کے پاس ہے۔
پاسوان کو نتیش کمار کے ترقی کے ایشو سے نمٹنے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے مگر اس معاملے میں گنتی کرانے کے لیے ان کے پاس بھی کئ کام ہے۔ پاسوان حاجی پور میں ریلوے زون کھولنے، ہوٹل میجنمنٹ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے اور اسٹیل یونٹ کھولنے کا چرچہ کر رہے ہیں۔
پاسوان کو لالو کی طرح مرکز میں وزیر ہونے کے باوجود کانگریس کو ہدف نشانہ بنانے کی مجبوری کا بھی سامنا ہے۔کانگریس نے یہاں سے سابق وزیر دسئ چودھری کو امید وار بنایا ہے۔رام ولاس پاسوان اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ کانگریس نے انکے خلاف بھی امیدوار کھڑ ے دیے جبکہ بقول رام ولاس 'دلی میں لوک جن شکتی پارٹی نے کانگریس کی حمایت میں اپنے تمام امیدوار میدان سے ہٹا لیے ہیں'۔
رام ولاس پاسوان کو امید ہے کہ انہیں اس بار لالو کی حمایت والے ووٹ بھی ملیں گے اور وہ بہتر فرق سے فتح حاصل کریں گے لیکن کئ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاسوان کو لالو کا ساتھ ملنے سے جتنے ووٹ ملیں گے تقریباً اتنے ہی ووٹ کا انہیں لالو کے ساتھ ہونے کی وجہ سے نقصان بھی ہوسکتا ہے۔
حاجی پور پارلیمان حلقے کا فیصلہ ملک اور بہار کی آئندہ سیاست کی شکل وضع کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔






















