سیاست کی اسکرپٹ

- مصنف, ایم ایس احمد
- عہدہ, پٹنہ
'گنگا جل' 'راجنیتی' اور 'اپہرن' جیسی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والے پرکاش جھا بائس اپریل کی آدھی رات گزرنے کے بعد دس ہزار کے نجی مچلکے پر ضمانت کے لیک کاغذات پر دستخط رہے تھے مگر یہ سین کسی فلم کا نہیں تھا بلکہ وہ حقیقی سیاست سے نبرد آزما ہو رہے تھے۔
پرکاش جھا رکن پارلیمان بننے کا الکشن لڑ رہے ہیں اور مقامی انتظامیہ نے ان کے دفتر پر چھاپہ ڈال کر دو دن پہلے دس لاکھ روپیے ضبط کیے تھے جو بقول پولس 'ووٹروں کو راغب کر نے کے لیے تقسیم کیے جانے والے تھے'۔
ضمانت کے کاغذات پر دستخط کے وقت جب بی بی سی نے ان سے کہا کہ جھا صاحب آپ کہاں الکشن ولکشن میں پڑ گیے تو ان کا جوابی سوال تھا' آپ لوگ بھی ایسی بات کیجیے گا، پالٹکس سے ہم کیوں دور رہیں؟'
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت کے اشارے پر انتظامیہ نے ان پر غلط الزام عائد کیا ہے مگر 'ہم بھاگنے والے نہیں'۔
پرکاش جھا اپنے آبائی علاقے مغربی چمپارن سے لوک سبھا پہنچنے کی دوسری کوشش کر رہے ہیں۔ پہلی بار تو انہیں پچیس ہزار کے قریب ہی ووٹ ملے تھے مگر اس بار انہیں جیت کے قریب بتایا جا رہا ہے۔
پچھلی بار وہ آزاد امیدوار تھے، اس بار رام ولاس پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی سے انہوں نے ٹکٹ لیا ہے۔ انہیں لالو پرساد کی پارٹی آر جے ڈی کی حمایت بھی حاصل ہے۔
پرکاش جھا کا سیاسی کیریر بہت چھوٹا ہے مگر اس دوران ان کی وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے کافی قربت رہی۔ اسی قربت کے دوران جھا نے علاقے میں چینی مل کھولنے کا اعلان کیا اور اس پر کام بھی جاری ہے۔
مگر سیاست میں کب کس کے ساتھ رہے اور کب کس سے علیحدگی اختیار کر لے کہنا مشکل ہے۔اب وہ کہ رہے ہیں کہ نتیش کمار کی حکومت کے دوارن کام کاغذ پر زیادہ ہوتا ہے، حقیقت میں کم۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قریب پچپن کروڑ روپیے کے اثاثوں کے مالک اور بہار کے سب سے امیر امیدوار پرکاش جھا علاقے کے لیے اپنے کاموں میں سر فہرست اس چینی مل کے قیام کو رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ہسپتالوں کو دیے گیے امداد کا چرچہ بھی کر رہے ہیں۔
پرکاش جھا مغربی چمپارن سے الکشن لڑنے کے خواہش مند تھے مگر نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو سے انہیں ٹکٹ نہیں مل سکا تو دونوں کی قربت یہیں رک گئ۔اس کے بعد رام ولاس پاسوان نے انہیں اپنی پارٹی کا ٹکٹ دے دیا۔
اس مرحلے پر پرکاش جھا کی سیاسی کہانی میں سادھو یادو کے کردار شروع ہو گیا۔ سادھو یادو اپنے بہنوئی لالو پرساد کے رام ولاس پاسوان کے ساتھ سیٹ تقسیم کرنے کے اس فیصلے کے خلاف 'بغاوت' کا جھنڈا بلند کر دیا۔
سادھو یادو نے یہ کہتے ہوئے مخالفت شروع کر دی پرکاش جھا نے لالو اور ان کے رشتہ داروں پر اپنی فلموں میں قابل اعتراض باتیں دکھائی ہیں۔

سادھو نے پرکاش پر پیسے اور رام ولاس پاسوان کے بیٹے چراغ پاسوان کو فلموں میں بریک دینے کے عوض ٹکٹ لینے کا الزام عائد کیا۔ سادھو یادو گوپال گنج سے رکن اسمبلی بنے تھے مگر یہ سیٹ پسماندہ ذات کے لیے مختص ہونے کی وجہ سے انہیں وہاں سے ہٹنا پڑا۔
سادھو یادو کے اس بغاوتی عمل کے بارے میں انکی بہن اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کہتی ہیں کہ جو شخص اپنی بہن کا نہیں ہوا، وہ جنتا کا کیا ہوگا۔
پرکاش جھا کے لیے رکن پارلیمان بننے کی راہ میں سادھو یادو اکیلی رکاوٹ نہیں ہیں۔ اس حلقے سے بی جی پی کے امیدوار سنجۓ جایس وال نتیش کمار اور انکی پارٹی کی حمایت سے فتح حاصل کرنے کی زبردست کوشش کر رہے ہیں۔
سنجۓ کے والد ایم پی تھے اور انکے انتقال کے بعد سنجۓ کو ٹکٹ ملا۔ اس طرح انہیں اپنے والد کی امیج اور ہمدردی کے ووٹ بھی ملنے کی امید ہے۔پرکاش جھا اس سہ رخی جنگ میں فاتح بن کر نکلیں گے یا نہیں اسکے لیے ابھی تین ہفتوں کا انتظار کرنا ہوگا۔






















