انڈیا: ساٹھ فیصد ووٹنگ، ہلاکتیں

- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، انڈیا
ہندوستان کے انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ پندرہویں پالیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح ساٹھ فیصد کے قریب رہی ہے جبکہ اس دوران ماؤ نواز باغیوں کے حملوں میں دس اہلکاروں سمیت سترہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل غیرسرکاری ذرائع نے ہلاک شدگان کی تعداد اکیس بتائی تھی۔
<link type="page"><caption> انتخابات کا آنکھوں دیکھا حال: رپورٹرز لاگ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/04/090416_reporters_firstphase_ka.shtml" platform="highweb"/></link>
پہلے مرحلے میں پندرہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں کے ایک سو چوبیس حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ ان کے ساتھ ہی آندھر پردیش اور اڑیسہ کی ریاستی اسمبلیوں کے لیے بھی پولنگ ہوئی۔ زیادہ تر علاقوں میں پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہی تاہم ماؤ نواز باغیوں کے غلبے والے علاقوں میں پولنگ تین بجے ہی ختم کر دی گئی۔
دلی سے بی بی سی اردو کے نمائندے صلاح الدین کے مطابق ڈپٹی الیکشن کمشنر آر بالا کرشنن نے پہلے مرحلے کی پولنگ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’بہار میں سب سے کم چھیالیس فیصد اور لکشدیپ میں سب سے زیادہ چھیاسی فیصد پولنگ ہوئی ہے۔ ابھی تک جو ہمارے پاس اعداد و شمار ہیں وہ عبوری ہیں اور اس میں آگے چل کر کچھ کمی و بیشی بھی ہوسکتی ہے‘۔
کمیشن کے مطابق یوپی میں اڑتالیس سے پچاس، کیرالا میں ساٹھ، آندھرا پردیش میں پینسٹھ، میزورم میں باون، منی پور چھیاسٹھ، مہاراشٹر میں چوّن، اروناچل پردیش، آسام اور انڈیمان نکو بار میں باسٹھ، میگھالیہ میں پینسٹھ، ناگالینڈ میں چوراسی، چھتیس گڑھ میں اکیاون، جھارکھنڈ میں پچاس اور جموں و کشمیر میں اڑتالیس فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔
ڈپٹی الیکشن کمشنر آر بالا کرشنن کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کے انتخابات میں مجموعی طور پر ایک لاکھ پچاسی ہزار پولنگ مراکز بنائے گئے تھے جن میں سے تقریبا چھہتر ہزار ماؤ نواز باغیوں سے متاثرہ علاقوں میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’پہلے مرحلے کے انتخابات میں کل چھیاسی پولنگ مراکز پر تشدد اور حملوں جیسے واقعات پیش آئے۔ ان میں سے اکہتر پولنگ سٹیشنز ماؤ نوازوں سے متاثرہ علاقوں میں تھے جبکہ باقی پندرہ مراکز ایسے تھے جہاں نکسلی حملے کا کوئی خطرہ نہیں تھا‘۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے کا انتخاب اکا دکا واقعات چھوڑ کر عام طور پر پرامن رہا۔ بالا کرشنن کا کہنا تھا کہ ’ریاست آندھرا پردیش کے بعض پولنگ مراکز پر ڈسٹربنس کے سبب پولنگ نہیں ہو پائی۔ ایسے کل سترہ پولنگ سٹیشنز ہیں جن کی تفصیلات ملنے کے بعد وہاں دوبارہ پولنگ کروائی جائے گی‘۔ تاہم الیکشن کمیشن کے دعوؤں کے برعکس عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں ماؤ نواز باغیوں نے مختلف ریاستوں میں حملے کر کے دس سکیورٹی اہلکاروں سمیت سترہ افراد کو ہلاک کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تشدد کے واقعات ریاست جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ اور بہار میں پیش آئے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق چھتیس گڑھ کے راج نند گاؤں میں پانچ پولنگ اہلکار اس وقت ہلاک ہوگئے جب ماؤ نواز باغیوں نے ان کی بس کو بارودی سرنگ سے اڑا دیا۔ باغیوں نے متعدد مقامات پر پولنگ سٹیشنوں پر حملے کیے۔ جھارکھنڈ کے لاتے ہر علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے کی زد میں آ کر بارڈر سکیورٹی فورس کے سات جوان ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں ان کا ڈرائیور اور ہیلپر بھی ہلاک ہوگیا۔ ایک پولیس اہلکار اور ایک ہوم گارڈ بہار کے گیا ضلع میں مارے گئے جبکہ سی آر پی ایف کا ایک جوان داندے واڑہ میں ہلاک ہوا۔
خیال رہے کہ ماؤ نوازوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی جس کے پیش نظر ان تمام علاقوں میں، جہاں ان کا اثر مانا جاتا ہے، انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم منموہن سنگھ نے ماؤنواز باغیوں کو ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ نکسل وادیوں کے نام سے مشہور یہ باغی غریب مزدوروں کے حقوق کے لیے کئی دہائیوں سے مسلح تحریک چلا رہے ہیں اور وہ موجودہ جمہوری نظام کو بدلنا چاہتے ہیں۔ان کا سب سے زیادہ اثر بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال اور اڑیسہ کے سرحدی اضلاع میں ہے۔

اڑیسہ کے کندھامال علاقے میں عیسائی ووٹرز نے بڑی تعداد میں پولنگ میں حصہ لیا ہے۔ یہ علاقہ عیسائیوں پر ہندو شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ امدادی کیمپوں میں مقیم عیسائی ووٹر انتقامی کارروائی کے خوف سے شاید حق رائے دہی کا استعمال نہ کریں تاہم اطلاعات کے مطابق ان ووٹروں کو پولیس کی حفاظت میں پولنگ سٹیشنوں تک لے جایا گیا۔
پہلے مرحلے میں جو اہم سیاسی رہنما میدان میں ہیں ان میں راشٹریہ جنتا دل کے لالو پرساد یادو، بی جے پی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی، کانگریس کی رینوکا چودھری، نیشنلسٹ کانگریس کے پرفل پٹیل اور تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے سربراہ چندر شیکھر راؤ شامل ہیں۔
پہلے مرحلے میں جن ریاستوں میں ووٹ ڈالے گئے ان میں کیرالا، چھتیس گڑھ ، میگھالیہ، بہار، اترپردیش، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، جھارکنڈ، اڑیسہ، آسام ، اروناچل پردیش، منی پور، جموں اور کشمیر، انڈومان نکوبار جزیرے، لکشدویپ، میزورم اور ناگالینڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش کے ایک سو چون اسمبلی حلقوں اور اڑیسہ اسمبلی کی ستر سیٹوں کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔ پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر سترہ سو پندرہ امیدوار میدان میں ہیں جن میں ایک سو بائیس خواتین شامل ہیں۔
لوک سبھا کی پانچ سو تینتالیس سیٹوں کے لیے پولنگ پانچ مرحلوں میں کرائی جا رہی ہے تاکہ حفاظت کے مناسب انتظامات کیےجا سکیں۔ انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ تئیس اپریل کو ہوگی جبکہ تمام حلقوں کے لیے ووٹوں گنتی سولہ مئی کو کی جائے گی۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کے لے الیکٹرانک مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں اور کسی بھی قسم کی دھاندلی کی اطلاع دینے کے لیے ایک لاکھ پچاسی ہزار پولنگ سٹیشنوں کا الیکشن کمیشن سے رابطہ قائم کیا گیا ہے جو فون، وائرلیس یا اگر اس قسم کا نظام نہیں ہے تو تیز دوڑنے والے افراد کی مدد سے پیغام بھیج کر کیا جائے گا۔




















