کشمیر: چناؤ سے قبل تشدد

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارتی لوک سبھا کے لیے ہو رہے انتخابات کے سلسلے میں بدھ کو جموں کشمیر کی لداخ اور بارہمولہ سیٹوں کے لیے بھی ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔
لداخ میں حالات معمول پر ہیں، لیکن کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی کال پر سوموار کی شام سے الیکشن کے خلاف پچاس گھنٹہ کے لیے ہڑتال ہوگئی ہے ۔ اس حوالے سے مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
بارہمولہ میں منگل کی صبح مکمل ہڑتال اور کڑے سیکورٹی حصار کے بیچ نوجوانوں کی ایک ٹولی نے مظاہرے کئے۔ عینی شاہدین کے مطابق جوں ہی پولنگ عملہ سے بھری ایک مسافر بس بارہمولہ چوک میں پہنچی تو مشتعل نوجوانوں نے گاڑی پر دھاوار بول کر اسے نذرآتش کردیا۔
پولنگ عملہ کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ، لیکن پولیس نے لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کے ذریعہ بھیڑ کو منتشر کردیا۔ مقامی پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ تشدد کی اس واردات کے بعد ضلع میں سیکورٹی پابندیوں کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔
واضح رہے بدھ کو بارہمولہ، کپوارہ اور بانڈی پورہ کے پندرہ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ایک پارلیمنٹ سیٹ پر ووٹنگ ہورہی ہے۔ اس مرحلہ کے انتخابات کی خاص بات یہ ہوگی کہ اس میں علیحدگی پسند رہنما سجاد غنی لون بھی حصہ لے رہے ہیں۔
اس طرح شمالی کشمیر میں حکمراں نیشنل کانفرنس، حزب اختلاف پی ڈی پی اور سجاد لون کے درمیان تکونی مقابلہ ہوگا۔ دریں اثنا منگل کی صبح سے ہی پوری وادی میں ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی معطل ہے اور تمام تعلیمی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔
واضح رہے سوموار کو بھی بارہمولہ میں مشتعل نوجوانوں نے پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید کی انتخابی ریلی میں جارہے گاڑیوں کے ایک کاروان پر پتھراؤ کیا اور سولہ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس نے مداخلت کی اور تصادم میں کم از کم تیس افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن مخالف مظاہروں کے خدشہ سے بدھوار کو سیکورٹی پابندیاں نافذ کی جائینگی اور صرف ووٹ ڈالنے پر آمادہ شہریوں کو نقل و حرکت کی اجازت دی جائیگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















