کشمیر میں شدید مظاہرے

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں پولیس نے سنیچر کی صبح ایک ندی رمبی آرا سے ایک لڑکی اور ایک جواں سال خاتون کی لاش برآمد کی ہے۔
ان خواتین کے دوہرے قتل کی خبر پھیلتے ہی پورے قصبہ میں لوگوں نے نیم فوجی عملے کے خلاف پُرتشّدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ اس دوران شوپیان اور پلوامہ کے بعض علاقوں میں ہڑتال ہوگئی اور پولیس کی گشت تیز کردی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بون گام شوپیان کے شکیل احمد آہنگر نے جمعہ کی شام پولیس میں رپورٹ لِکھوائی کہ اس کی بائیس سالہ بیوی نیلوفر جان اور سترہ سالہ بہن آسیہ ڈیڑھ کلومیٹر دُور ناگہ بل میں واقع اپنے میوہ کے باغ میں کام کے دوران لاپتہ ہوگئیں۔
شوپیان کے ڈی ایس پی روہِت شرما نے بی بی سی کو بتایا ’رات کے بارہ بجے ہمیں شکایت ملی تو ہم نے تلاش شروع کردی۔ سنیچر کی صبح چھ بجے ہمیں ان دونوں کی لاشیں رمبی آرا ندی سے برآمد ہوئیں۔ مقامی لوگوں کا اصرار تھا کہ پوسٹ مارٹم کے لیے باہر سے ٹیم لائی جائے۔ ٹیم یہاں پہنچ چکی ہے۔ وہ اپنی رپورٹ سوموار کو پیش کرے گی۔ طبی جانچ اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سوموار کو تیار ہوگی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کی ابتدائی جانچ کی گئی ہے اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں ہیں۔
تاہم مقتولہ آسیہ کے بڑے بھائی ریاض احمد آہنگر کا کہنا ہے کہ دونوں کی کلایئوں، ٹانگوں اور چھاتیوں پر ناخنوں کی کھروچیں اور خون جم جانے کے نشانات نمایاں ہیں۔
ریاض کا کہنا ہے کہ جمعہ کو رات آٹھ بجے جب گھر والوں نے دونوں کے موبائل پر فون کیا تو انہوں نے کہا کہ کسی کام سے اُنہیں دیر ہوگئی اور وہ بس نکل رہی ہیں۔ ریاض کے مطابق جب آٹھ بجکر بیس منٹ پر دوبارہ فون کیا گیا تو ان کا فون سوئچ آف تھا۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ بون گام سے ناگہ بل کے درمیان نیم فوجی سی آر پی ایف کی بارہویں بٹالین کا کمیپ بھی پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی لوگوں اور مقتول خواتین کے لواحقین کا الزام ہے کہ کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے دونوں خواتین کو اغوا کرلیا اور کمیپ میں ان کی عصمت ریزی کرنے کے بعد انہیں قتل کیا اور نالہ رمبی آرا میں پھینک دیا۔
مقامی لوگوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف شدید مظاہرے کئے اور کاروباری سرگرمیاں معطل کردیں۔ شوپیاں کے متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے اشک آور گیس کے گولے داغے جس کے نتیجہ میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ قصبہ میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔
دریں اثناء سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ اور دوسرے سرکردہ علیٰحدگی پسندوں کو حکومت نے پہلے ہی اپنے گھروں میں نظر بند کر رکھا ہے۔ کئی علیحدگی پسند گروپوں اور بعض ہندنواز جماعتوں نے اس واقعہ کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔





















