کشمیر میں ہڑتال، کشیدگی برقرار

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
وادی کشمیر کےتمام دس اضلاع میں سوموار کے روز مکمل ہڑتال کے دوران مختلف مقامات پر پولیس اور مشتعل مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئیں جب کہ بعض جنوبی اضلاع اور سرینگر کے بیشتر علاقوں میں پولیس نے بغیر اعلان کے کرفیو نافذ کردیا ہے۔
واضح رہے جمعہ کی شب سرینگر سے ساٹھ کلومیٹر دور واقع جنوبی ضلع شوپیان میں ایک نابالع طالبہ آسیہ اور اس کی حاملہ بھابی نیلوفر جان باغ میں کام کے دوران لاپتہ ہوگئیں تھیں۔ سنیچر کی صبح پولیس کو دونوں کی لاشیں نزدیکی ندی سے ملیں۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ دونوں کو سرکاری فورسز نے اغوا کیا تھا اور بعد میں ان کی اجتماعی عصمت ریزی کرکے انہیں قتل کردیا گیا۔
اس واقع سے شوپیان اور جنوبی کشمیر کے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ پوری وادی میں سنسنی پھیل گئی اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مذکورہ واردات کے خلاف سوموار کو ہڑتال اور مظاہروں کی کال علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے دی ہے۔ ہڑتال اور احتجاجی پروگرام کی حمایت دیگر علیٰحدگی پسند گروپوں کے ساتھ ساتھ کالعدم مسلح گروپ لشکر طیبہ نے بھی کی ہے۔
لشکر کے ترجمان ڈاکڑ عبداللہ غزنوی نے بی بی سی کو فون پر بتایا :'انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو کشمیر کی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیئے۔'
سنیچر اور اتوار کو شوپیان اور پلوامہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان وقفہ وقفہ سے جھڑپیں ہوتی رہیں، جن میں پولیس کے مطابق پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور اس کے خصوصی دستہ 'ٹاسک فورس' نے ماتم کررہیں خواتین ے ساتھی مارپیٹ کیا ہے۔

سوموار کی صبح ہڑتال کے پیش نظر پوری وادی میں تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں اور پولیس نے مظاہروں کے خدشہ سے پُرانے سرینگر اور تاریخی جامع مسجد کے گرد و نواح میں پانچ تھانوں کی حدود میں عام لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی۔ تاہم سرینگر کے شمالی زورن کے پولیس افسر وحید احمد نے بی بی سی کو بتایا: 'شہر میں تناؤ کی صورتحال ہے اور ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن ہم نے کرفیو نافذ نہیں کیا ہے۔'
تاہم سرینگر کے مضافاتی برزلہ، رام باغ اور نوگام علاقوں میں نوجوانوں نے احتجاجی مارچ کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔ کئی شاہراہوں پر مشتعل نوجوانوں نے نجی کاروں پر پتھر مارے جسے کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ پولیس کا کہنا ہے کچھ علاقوں میں نوجوانوں نے سیاحوں کی بسوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم کسی سیاح کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران شوپیان میں آج صبح سیکورٹی پابندیوں کے باوجود لوگوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی تو پولیس اور نیم فوجی عملے نے لوگوں کی مارپیٹ کی جس میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ضلع کے پولیس سربراہ جاوید مٹو خُود آپریشن کی قیادت کررہے تھے۔ شوپیان کے ایک رہایشی اشفاق احمد شاہ نے بتایا : 'ایس پی نے چودہ خواتین کو لہو لہان کردیا، کیونکہ وہ اُن لڑکوں کی رہائی کا مطالبہ کررہی تھیں جنہیں پولیس نے مظاہرہ کرنے کے الزام گرفتار کرلیا۔'
پولیس نے امن و قانون میں خلل کے خدشہ سے سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ اور محمد یٰسین ملک سمیت درجنوں علیٰحدگی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو پچھلے تین ہفتوں سے گھروں میں ہی نظربند کررکھا ہے۔
حکومت نے سنیچر کے روز ہی اعلان کیا تھا کہ شوپیان میں ہوئے دوہرے قتل میں ملوث افراد کو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر بے نقاب کیا جائے گا اور یہ کہ قصورواروں کو قرارواقعی سزا دی جائے گی۔ حکومت نے اس معاملہ کی تفتیش کے لئے ایک خصوصی دستہ بھی تشکیل دیا ہے۔ لیکن شوپیان کے لوگوں نے حکومت کے تفتیشی عمل کو مشکوک بتایا ہے۔ شوپیان کے رہنے والے نثارالحق نے بی بی سی کو بتایا: 'پوسٹ مارٹم کے عمل میں حکومت نے ماہر ڈاکڑوں یا فارینسک ماہرین کی خدمات حاصل نہیں کی ہیں۔ اور طبی جانچ کے نتائج بھی خفیہ رکھے جارہے ہیں۔'





















