سکیورٹی فورس لال گڑھ سے 5 کلومیٹر دور

لال گڑھ آپریشن
،تصویر کا کیپشنآپریشن جمعرات کی شام شروع ہوا تھا
    • مصنف, امیتابھ بھٹاسالی
    • عہدہ, بی بی سی ، کولکاتا

مغربی بنگال کے لال گڑھ علاقے میں مشتبہ مسلح ماؤنواز باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوسرے روز سکیورٹی فورسز لال گڑھ کے کافی قریب پہنچ گئی ہیں۔

جمعہ کی صبح ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے لال گڑھ سے محض پانچ کلومیٹر دور جھٹکا کے جنگلات ميں پہنچ کر کارروائی شروع کر دی تھی۔

فی الحال سکیورٹی فورسز اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہی ہيں اور بظاہر انہیں کوئی بڑی دقت پیش نہيں آ رہی ہے۔

حکومت نے کارروائی کو مزید موثر بنانے کی غرض سے کولکاتا پولیس کے بھی تقریباً سو جوانوں کو بھیجا ہے۔ موجودہ کارروائی میں سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس کے پانچ سو جوان پہلے سے ہی شامل ہیں۔

جمعرات کو سکیورٹی فورسز کو لال گڑھ سے سولہ کلومیٹر دور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مقام پر تقریبا تین ہزار لوگوں کا ہجوم موجود تھا اور اس نے سکیورٹی فورس کو آگر بڑھنے نہیں دیا تھا لیکن جمعہ کو حالات بدل گئے ہیں۔

دوسری جانب ماؤنواز باغیوں کی ایک تنظیم کی میٹنگ جاری ہے جس میں موجودہ حالات میں نئی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا۔ ماؤنواز باغیوں کے ایک رہنما سنتوش پاترو نے میٹنگ کی خبر کی تصدیق کی ہے۔

ادھر حکومت نے لال گڑھ علاقے میں کارروائی تیز کرنے کے لیے گاؤں والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات میں چلے جائيں۔ اس پیغام کو گاؤں والوں تک پہنچانے کے لیے فضائیہ کے طیاروں نے گاؤں میں ایک خط کی کاپیاں گرائی گئی ہیں۔

منگل کو سی پی ایم کے دفتر ميں آگ بھی لگا دی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنمنگل کو سی پی ایم کے دفتر ميں آگ بھی لگا دی گئی تھی

اس خط میں لکھا ہے ’سرکار کی کارروائی عام لوگوں کے خلاف نہيں ہے اور وہ ماؤنوازوں کے کسی بھی بہکاوے ميں نہ آئيں کیونکہ ماؤنواز ان کا استعمال کر رہے ہیں۔‘

مقامی صحافی لکشمن رائے کے مطابق سکیورٹی فورسز کے آگے بڑھنے سے عام لوگوں ميں تناؤ اور ڈر پیدا ہو گیا ہے اور لوگ علاقے کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

مقامی صحافیوں کے مطابق سکیورٹی فورسز کو لالگڑھ کی طرف بڑھنے ميں معمولی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کے مطابق اب کوئی ’انسانی دیوار‘ نہيں ہے کیونکہ ماؤنوازوں نے ’انسانی دیوار‘ بنانے کی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے لیکن جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں اور درختوں کو گرا کر رکاوٹیں پیدا کی گئیں ہیں۔

اس علاقے میں حالیہ دنوں میں تشدد کے واقعات میں حکمراں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے کئی کارکنان ہلاک ہوگئے ہیں۔ منگل کو چھ لوگ مارے گئے تھے جبکہ اب بھی چھ کارکنان لا پتہ ہیں۔

مغربی ضلع مدنا پور حکمراں بائیں محاذ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن گزشتہ ماہ نومبر سے جب سے ماؤنواز سی پی آئی ایم مخالف ہوگئے ہیں تب سے حالات خراب ہوتے چلے گئے۔ حکومت نے اس ڈر سے کارروائی نہیں کی کہ کہیں سنگور اور نندی گرام کی طرح اس کا بھی برا اثر نہ پڑے۔