ہندوستان کے بڑھتے دفاعی اخراجات

پرنب مکھرجی
،تصویر کا کیپشنہندوستان کی مجموعی داخلی پیدوار کی شرح کا دو فی صد دفاعی بجٹ کے لیے مختض کایا گیا ہے
    • مصنف, راہل بیدی
    • عہدہ, دفاعی تجزیہ کار

بھارت میں مالی سال 2009 اور 2010 کے عام بجٹ میں دفاعی اخراجات کے ضمن میں تقریبآ ایک تہائی یا تینتیس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب یہ بجٹ بڑھ کر 1417. بلین روپئے ہوگیا ہے۔ اضافی رقم مسلح افواج کی جدید کاری پر صرف کی جائے گی جس کی ایک عرصے سے شدید ضرو رت تھی۔

چھ جولائی کو وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کی جانب سے جو دفاعی بجٹ پیش کیا گیا وہ اس سے قبل فروری میں یو پی اے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے عبوری بجٹ سے مختلف نہیں تھا ۔ اس میں کوئی بنیادی رد و بدل نہیں کیا گیا۔

ہندوستان کی مجموعی داخلی پیدوار کی شرح کا دو فی صد دفاعی بجٹ کے لیے مختض کیا گیا ہے ۔ جبکہ چین اپنی مجموعی داخلی پیداوار کا سات فی صد اور ر پاکستان پانچ فی صد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔

دفاعی بجٹ کی کل رقم میں سے 548.20 بلین روپئے دفاعی شعبے کی تینوں سروسز بحریہ، فوج، اور فضایہ کے لیے جدید دفاعی سازو سامان خریدنے کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔

اس میں سے 200 بلین روپئے صرف انڈین فورس میں 22 حملہ کرنے والے ہیلی کاپٹرز اور 15 ہیوی لفٹ ہیلی کاپٹرز خریدنے پر خرچ کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ فوج کو اس بجٹ میں سے چینی سرحد پر تعنیاتی بڑھانے، اور جدید اسلحہ خریدنے کے لیے 177.67 بلین روپئے دیے گئے ہیں۔

بری فوج اور فضائیہ مشترکہ طور پر تقریبآ ایک ارب ڈالر مالیت کے 197 ہلکے ہیل کاپٹر خریدنے والے ہیں ۔

بحریہ کے لیے 118.73 بلین روپئے مختص کیے گئے ہیں جو وہ اضافی آبدوزوں اور فریگیٹ کی خریداری اور چھہ فرانسیسی آبدوزوں اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز کی تیاری پر صرف کیے جائیں گے۔

لیکن فوج کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پریشانی پیسے کی کمی نہیں بلکہ وزارت دفاع اور دفاع کی تینوں سروسز کی جانب سے نئے ساز سامان کی خریداری اور جدیدکاری کے لیے فیصلے کرنے میں تاخیر تھی۔

دلی میں ڈفینس رسرچ اینڈ ڈولمپمنٹ آرگائنائزیشن یعنی ڈی آر ڈی او کے ایک سیمنار میں وزیر دفاع اے کے اینٹونی نے کہا تھا ’حالانکہ ہماری حکومت دفاع کے لیے بڑی رقم دے رہی ہے لیکن اس کے باوجود اس رقم کا استمعال دفاعی شعبوں کی جدید کاری میں نہیں دکھائی دیتا ہے۔ دفاعی بجٹ کبھی کم نہیں تھا اور نہ ہی پیسے کی کمی کا مسلہ تھا۔ لیکن اس رقم کا صحیح طریقے اور صحیح وقت پر استمعال نہ کیا جانا ایک مسئلہ رہا ہے‘۔

2008 اور 2009 کے مالی سال کے بجٹ میں دفاعی سازو سامان خریدنے کے لیے 480 بلین روپئے مخصوص کیے گئے تھے لیکن اس رقم کو پورا خرچ نہیں کیا گیا اور وزیر دفاع نے 70 بلین روپئے حکومت کو واپس کردیئے۔ رقم خرچ نہ کرنے کی وجہ کوئی فیصلہ کرنے میں تاخیر تھی۔

انہیں وجوہات کی سبب 2002 اور 2008 کے درمیان وزارت دفاع نے 225.17 بلین روپئے حکومت کو واپس کیے تھے۔

بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ارون پرکاش کا کہنا ہے ’سروس چیفس جو بھی کہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلح افواج میں جدید کاری کے عمل میں ہی نہیں فاضل کل پرزوں کے حصول میں بھی تا خیر کی جاتی ہے‘۔

ایک اور فوجی اہلکار کے مطابق انتہائی ضروری سازو سامان کی کمی نہ صرف فوج کی تیاری کو متاثر کرتی ہے بلکہ ایمرجنسی کے وقت فوج کے لیے ایک بے بسی کا سبب بن جاتی ہے۔

اس دوراان ہندوستان اپنے سات نیم فوجی دستوں کو جدید طرز پر منظم کرنے کے لیے 216.34 بلین روپئے خرچ کرے گا۔ جس میں سی آر پی ایف کو سب سے زیادہ پیسے ملیں گے۔

ممبئی حملوں کے بعد سیکورٹی کے پیش نظر سرحدوں کی نگہبانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اضافی 22.84 بلین روپئے مخصوص کیے گئے ہیں۔

یہ رقم بنگلہ دیش کے ساتھ ہندوستان کی سرحد پر خار دار تار لگانے اور شمال مشرقی ریاستوں میں سرحدوں پر فلڈ لائٹس لگانے کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔

پرنب مکھرجی نے ایسے ایک لاکھ بیس ہزار فوجیوں کو جو افسر رینک کے نہيں تھے انکی پینشن میں اضافے کے لیے 21 بلین روپئے مخصوص کیے ہیں۔