قصاب: اعترافِ جرم کی وجوہات

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشناجمل امیر قصاب نے عدالت کو جرم قبول کرنے کی وجوہات بتائی ہیں
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے ملزم اجمل امیر قصاب نے منگل کے روز عدالت کو بتایا کہ ان کی حفاظت پر مامور گارڈز کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ پاکستان نے انہیں اپنا شہری مان لیا ہے اور حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ پر عائد کی ہے۔

قصاب نے گزشتہ روز عدالت میں سامنے اپنا جرم قبول کر کے سب کو چونکا دیا تھا۔

منگل کے روز عدالت میں خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے قصاب سے پہلا سوال کیا کہ آخر انہیں پاکستان میں ہو رہی کارروائی کے بارے میں کیسے پتہ چلا جب کہ آپ تنہا رہتے ہیں اور آپ کے پاس اخبار بھی نہیں ہے۔ قصاب نے کہا کہ ’ان کی حفاظت پر مامور گارڈز نے انہیں بتایا ہے۔‘ جج کے ایک سوال کہ وہ ان کا نام جاننا چاہتے ہیں، قصاب نے کہا ’میری کھنچائی ہو جائے گی۔‘

جج کے ایک اور سوال کہ کیا وہ عدالت سے مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں کیونکہ گزشتہ روز سب کے جانے کے بعد وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے تھے۔اس پر قصاب نے عدالت کو بتایا کہ ’ انہیں ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ سی ایس ٹی سٹیشن پر فائرنگ کر کے لوگوں کو یرغمال بنا لیں۔ اوپر والے مالے پر جائیں اور انہیں رہا کرنے کے لیے جو بھی بعد میں آئے اس کے ساتھ لڑائی کریں۔‘

قصاب نے کہا کہ وہ یہ سازش تیار کرنے والوں کو کچھ پیغام دینا چاہتا ہے۔ عدالت کی اجازت کے بعد قصاب نے اپنا بیان بھی دیا لیکن عدالت نے اسے شائع نہ کرنے کے لیے میڈیا کو سخت ہدایت دی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

جج نے قصاب کے بیان کے بعد کہا کہ عدالت کے سامنے ملزم کے اعترافِ جرم کے معاملہ میں تین راستے ہیں یا تو عدالت بیان قبول کر لے ، یا نہیں کرے یا اس کا کچھ حصہ قبول کرے۔ جج تہیلیانی نے کہا کہ وہ پہلے اس اقبالِ جرم پر دونوں وکلاء کی جرح سنیں گے اس کے بعد کچھ فیصلہ کریں گے۔

مقدمے کی سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ ممبئی حملوں کی سماعت آٹھ مئی سے شروع ہوئی تھی۔اب تک عدالت میں ایک سو چونتیس گواہ پیش ہو چکے ہیں۔ پولیس کرائم برانچ نے گیارہ ہزار سے زیادہ صفحات پر فرد جرم تیار کی ہے جس میں پینتیس مفرور ملزمان کے نام شامل ہیں جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان یا اس کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں۔ پولیس نے ان حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ پر عائد کی تھی جسے بعد میں پاکستان نے بھی قبول کر لیا تھا۔

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسندوں نے حملے کیے تھے جن میں پولس کے مطابق ایک سو تریسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دس حملہ آوروں میں سے نو پولیس اور کمانڈوز کی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اجمل امیر قصاب کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ہلاک ہوئے نو حملہ آوروں کی لاشیں ابھی بھی شہر کے سرکاری جے جے ہسپتال کے مردہ گھر میں موجود ہیں اور اب متعلقہ حکام کا ماننا ہے کہ اب پاکستان کو وہ لاشیں لے لینی چاہیے۔