قصاب مقدمہ: دوسرے گواہ نے بھی شناخت کی

ممبئی حملوں کا نشانہ تاج ہوٹل
،تصویر کا کیپشنگزشتہ برس 26 نومبر کو ممبئی میں شدت پسند حملے ہوئے تھے۔
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی حملوں کے کیس کے دوسرے گواہ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سنجے گوولکر نے بھی آج کیس کے کلیدی مشتبہ ملزم اجمل امیر قصاب کو شناخت کر لیا ہے۔

منگل کو عدالت کے سامنے گواہ گوولکر نے چھبیس نومبر کی شب کا پورا واقعہ دہرایا ۔ اس سے قبل پولیس سب انسپکٹر بھاسکر کدم اس کیس کے پہلے گواہ کے طور پر پیش ہو چکے تھے اور انہوں نے بھی عدالت کے سامنے اجمل قصاب اور ان کے پاس سے برآمد کیا گیا اسلحہ کو شناخت کرنے کا دعوی کیا تھا۔

گواہ گوولکر کے مطابق چھبیس نومبر کی شب گرگام چوپاٹی پر ڈی بی مارگ پولیس سٹیشن کے پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ دو افراد جنوبی ممبئی میں ودھان بھون کے پاس سے سکوڈا گاڑی چرا کر فرار ہوئے ہیں۔

اے پی آئی گوولکر نے عدالت میں آج اپنے بیان میں کہا کہ ناکہ بندی کے دوران ان کی ٹیم نے سکوڈا گاڑی کو روک لیا تھا جس میں سے عدالت میں موجود ملزم اترنے کی کوشش کر رہا تھا ان کے پاس اے کے 47 رائفل تھی جسے وہ اور ان کے ساتھی تکا رام اومبلے نے چھیننے کی کوشش کی۔جس کے نتیجے میں ملزم اجمل نیچے گر گئے اور انہوں نے فائرنگ کی جس کی گولیاں ان کے ساتھی تکا رام کو لگی۔ ایک گولی گوولکر کی کمر سے چھو کر گزر گئی۔

گوولکر نے عدالت میں بیان میں کہا کہ اومبلے کسی طرح ملزم کے ہاتھ سے رائفل چھیننے میں کامیاب ہو گئے تھے۔گوولکر کے مطابق اس کے بعد اس جگہ ان کے دوسرے ساتھی بھی پہنچ چکے تھے۔ان کے پاس لاٹھیاں تھیں جس سے انہوںنے اجمل کی پٹائی کی تھی۔گوولکر کے مطابق اجمل کی رائفل سے نکلی گولیوں کی وجہ سے اومبلے کی موت واقع ہو گئی تھی۔

عدالت میں گواہ گوولکر نے ضبط شدہ اسلحہ میں سے ایک اے کے 47 کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجمل کی رائفل ہے۔

گواہ سے عدالت میں دفاعی وکیل عباس کاظمی نے جرح کی اور کہا کہ یہ اسلحہ ان کے موکل کا نہیں ہے اور یہ کہ گواہ کو پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ کس رائفل کی نشاندہی کرنی ہے۔

دو گواہوں کے بعد اب تیسرے گواہ اور پولیس اہلکار بودھنکر عدالت کے سامنے گواہی کے لیے پیش ہوں گے۔

اجمل قصاب
،تصویر کا کیپشنمنگل کو اجمل قصاب عدالت میں چپ چاپ بیٹھے رہے

استغاثہ نے پہلے گرگام چوپاٹی کے واقعہ سے کیس کی شروعات کی ہے۔جہاں پولیس کے مطابق انہوں نے ملزمین کو پکڑ لیا تھا۔پولیس کارروائی میں اجمل کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل کی موت واقع ہو گئی تھی۔

آج عدالت میں اجمل خاموش بیٹھے تھے کیونکہ گزشتہ روز ان کے گواہان کی گواہی کے دوران مسکراتے رہنے پر عدالت نے سخت تنبیہ کی تھی اور انہیں عدالت کے آداب کو برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ' یہ کوئی ناٹک نہیں ہے '

اجمل نے ایک بار پھر عدالت سے اردو اخبار پڑھنے کی اجازت طلب کی ہے۔جیل کے قانون کے مطابق ملزم کو اپنے پیسوں سے اخبار خرید کر پڑھنا ہوتا ہے۔اور اجمل کے پاس رقم نہیں ہے۔

اس کیس میں دو ہزار سے زائد گواہان پیش ہوں گے۔ گیارہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل فرد جرم میں پولیس نے تینتالیس افراد کو ممبئی حملوں کا ملزم قرار دیا ہے۔ان حملوں میں پولیس کے مطابق ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔