’سر مجھے اپنا جرم قبول کرنا ہے‘

اجمل قصاب
،تصویر کا کیپشناجمل قصاب کے اقبالِ جرم سے کمرۂ عدالت میں موجود ہر شخص حیران رہ گیا
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل امیر قصاب نے پیر کو عدالت میں اپنےجرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

ان کے اقبالِ جرم پر جہاں سرکاری وکیل اجول نکم نے حیرت ظاہر کی ہے وہیں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان نے کہا ہے کہ آج نہیں تو کل یہ بات عدالت میں ثابت ہونے والی تھی۔

ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں جج ایم ایل تہیلیانی جب حاضر ہوئے اور کیس کے ایک سو چونتیسویں گواہ کو عدالت میں پکارا گیا اسی وقت اجمل امیر قصاب اچانک کھڑے ہوئے اور ڈرامائی انداز میں کہا کہ ’سر مجھے اپنا جرم قبول کرنا ہے۔‘

جج سمیت عدالت میں موجود ہر شخص اس بات پر حیران رہ گیا۔ جج تہیلیانی نے اس کے بعد سوال کیا کہ آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ اس پر قصاب کا کہنا تھا کہ وہ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا کیا گیا جرم قبول کرنا چاہتا ہے۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے کہا کہ انہیں اس بیان سے بہت بڑا جھٹکا لگا ہے ۔انہوں نے اجمل کو بیان کی اجازت دینے کی مخالفت کی لیکن کچھ دیر بحث کے بعد جج نے قصاب کو عدالت میں بیان دینے کی اجازت دے دی۔ عدالت میںموجود ہر شخص حیران تھا لیکن قصاب کے چہرے پر کسی طرح کی گھبراہٹ نہیں دیکھی گئی۔

جج نے سوال کیا کہ آخر آپ سب ہندوستان کیسے پہنچے۔ قصاب نے بتایا کہ انہیں اور ان کے بقیہ نو ساتھیوں کو ذکی الرحمن لکھویاور ابو حمزہ اپنے ساتھ کراچی لائے جہاں سے وہ ایک بوٹ کے ذریعہ جہاز الحسینی تک پہنچے۔ اس جہاز کے ذریعہ وہ کشتی الکبیر میں پہنچے۔قصاب نے کشتی کے نگراں سولنکی کو قتل کرنے کا جرم قبول نہیں کیا قصاب کے مطابق سولنکی کو ان کے ساتھی ابو شعیب نے قتل کیا تھا۔قصاب نے اپنے بیان کے دوران چار پاکستانیوں کےنام لیے۔ انہوں نے کہا کہ ذکی الرحمن لکھوی، ابوحمزہ ، ابوقافہ اور ابوجندل اس پوری سازش میں شامل تھے۔

قصاب نے پوری تفصیل کے ساتھ بتایا کہ کس طرح وہ اور ابو اسماعیل سی ایس ٹی سٹیشن پر اترے۔ قصاب نے سٹیشن پر لوگوں پر فائرنگ کرنے کا جرم قبول کیا۔ اس کے بعد قصاب نے بتایا کہ کس طرح وہ اور اسماعیل پھر کاما ہسپتال کی طرف آئے۔ قصاب نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ہیمنت کرکرے پر فائرنگ کی۔ قصاب نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ کس طرح پھر لاشوں کو انہوں نے کار سے نیچے اتارا اور وہ لوگ گرگام چاپاٹی کی طرف گئے۔

قصاب نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر تکا رام اومبلے پر فائرنگ سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر فائرنگ ان کے ساتھی اسماعیل نے کی تھی جن کی گولیوں سے اومبلے کی موت واقع ہوئی تھی اور اسی جگہ پولیس نے قصاب کو زندہ گرفتار کیا تھا۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے اس موقع پرصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی اور دھچکا لگا ہے۔ انہیں یقین ہی نہیں تھا کہ کیس کی سماعت کے اس موڑ پر ایسا بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ نکم نے کہا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے وقت میں جبکہ فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( ایف بی آئی ) نے پاکستانی عدالت میں کاغذات داخل کیے جس میں کہا گیا ہے کہ قصاب پاکستانی ہے اور پھر پاکستانی حکومت کا بھی قصاب کو اپنا شہری کہنے کا اعتراف کرنا اور ممبئی حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ پر عائد کرنا یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کہیں کوئی بات ہے‘۔

نکم نے مزید کہا کہ اب ان کی پولیس ٹیم اور تفتیشی ایجنسیاں یہ جاننے کی کوشش کریں گی کہ آخر ان سب کے پیچھے کیا راز ہے۔’اب دیکھنا ہے کہ وہ ہمیں کاؤنٹر کرتےہیں یا پھر ہم انہیں کاؤنٹر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔‘

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اشوک چوان نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران کہا کہ اب ہمیں اطمینان ہوا ہے۔ ہماری پولیس ٹیم نے اور سرکاری وکیل اجول نکم نے جو محنت کی ہے اور عدالت میں حملہ آوروں کے خلاف جو ثبوت پیش کیے ہیں اس میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین تھا کہ ایک دن یہ بات ثابت ہو جائے گی بس قصاب کے اعتراف نے وقت سے پہلے دنیا کو بتا دیا کہ جرم کس نے کیا تھا۔

وزیر اعلی اشوک چوان نے مزید کہا کہ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس سے قصاب کے تئیں رویہ نرم ہو جائے گا اس نے جو جرم کیا ہے وہ نا قابل معافی ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خود اس شدت پسندی کا شکار ہے اور وہ اسے محسوس کر رہا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ہندوستان کو اس کا علم ہے لیکن پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے یہاں اس طرح کی شدت پسند تنظیموں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے۔