قصاب بوریت کا شکار کتابوں کا مطالبہ

عباس کاظمی
،تصویر کا کیپشنعباس کاظمی کو صرف عدالت میں اپنے مؤکل اجمل قصاب سے ملنے کی اجازت ہے
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

ممبئی حملوں کے واحد زندہ پکڑے جانے والے مبینہ حملہ آور اجمل امیر قصاب نے بدھ کوعدالت میں جج سے کہا کہ ’میں بور ہو گیا ہوں اور مجھے پڑھنے کے لیے کچھ کتابیں دی جائیں۔‘

ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت خصوصی عدالت میں نامزد جج ایم ایل تہیلیانی کر رہے ہیں۔ معمول کے مطابق جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو اجمل قصاب نے عدالت سے کہا کہ وہ اپنے وکیل غلام عباس کاظمی سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔

گفتگو کے بعد واپسی پر جج نے وکیل کاظمی سے استفسار کیا۔ ایڈوکیٹ کاظمی نے عدالت سے کہا کہ قصاب پڑھنے کے لیے کچھ کتابیں چاہتے ہیں کیونکہ وہ تنہا اپنے سیل میں بور ہو گئے ہیں۔ اس پر قصاب نے کھڑے ہو کر اردو میں جج سے کہا کہ سر میں بور ہو گیا ہوں مجھے کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں یا مجھے میرے پیسوں سے اسے خریدنے کے اجازت دی جائے۔

قصاب کا اشارہ اس رقم کی طرف تھا جو پولیس نے گرفتاری کے وقت اس کے پاس سے برآمد کی تھی۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق جس وقت قصاب کو گرفتار کیا گیا اس وقت ان کے پاس چار ہزار پانچ سو اسی روپے تھے۔

اجمل قصاب ممبی حملوں میں واحد بچ جانے والے ملزم ہیں
،تصویر کا کیپشناجمل قصاب ممبی حملوں میں واحد بچ جانے والے ملزم ہیں

جج نے اس رقم کے بارے میں قصاب کو بتایا کہ اب یہ رقم عدالت کے اس کیس کا ’مدمال ‘ بن چکی ہے اور جب تک کیس ختم نہیں ہو جاتا وہ بطور ثبوت عدالت کےپاس رہے گی اسے آپ کو نہیں دیا جا سکتا۔

قصاب کے وکیل کاظمی نے البتہ عدالت سے کہا کہ وہ اپنے پیسوں سے قصاب کے لیے کچھ اردو کی کتابیں خرید کر دیں گے جیسا کہ انہوں نے پہلے بھی کیا تھا۔

قصاب نے اس سے قبل عدالت سے اخبار پڑھنے کا مطالبہ کیا تھا جو اسی بنیاد پر رد کر دیا گیا کہ قصاب کے پاس اسے خریدنے کے لیے اپنی رقم نہیں ہے۔ انڈین جیل قانون کے مطابق زیر سماعت کیس کے قیدیوں کو اپنی رقم سے سامان خریدنا ہوتا ہے۔ قصاب نے اس سے پہلے عدالت سے سیل کے باہر ٹہلنے کی اجازت طلب کی تھی جسے عدالت نے قبول نہیں کیا تھا۔

قصاب کے وکیل کاظمی کا کہنا ہے کہ دن رات ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا رہنا آسان بات نہیں ہے اور اسی لیے تنہائی کو دور کرنے کے لیے قصاب نے یہ مطالبہ کیا ہے۔ کاظمی نے پہلے قصاب کو چند کہانیوں اور لطائف کی کتابیں دی تھیں۔ قصاب کو دی جانے والی کتابیں پہلے جیل سپرنٹینڈینٹ کے حوالے کی جائیں گی اس کے بعد وہ انہیں قصاب کو دیں گے۔

قصاب کو لوہے سے بنے بلیٹ پروف سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کے اطراف سخت پہرہ ہے۔ ان کی حفاظت پر ہند تبت سرحدی دستے کے عملے تعنیات کیے گئے ہیں اور قصاب سے ملنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہے۔ قصاب کے وکیل بھی ان سے عدالت کی کارروائی کے دوران ہی ملتے ہیں۔ ہر ہفتے قصاب کی صحت چیک کرنے کے لیے ڈاکٹر جیل آتے ہیں اور قصاب کا مکمل طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔

اب تک عدالت کی کارروائی کے دوران سو سے زائد گواہان کی گواہی رجسٹر کر لی گئی ہے۔