مودی سے پوچھ گچھ کا راستہ ہموار

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
گجرات ہائی کورٹ نے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو ریاست کے وزیر اعلی نریندر مودی سےگجرات فسادات کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی اجازت دے دی ہے۔
عدالت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سابق رکن اسمبلی کالو بھائی مالی واڈ کی اس عرضی کو خارج کر دیا جس میں مسٹر مودی سے پوچھ گچھ کی مخالفت کی گئی تھی۔
ان کی دلیل تھی کہ سپریم کورٹ نے اپنی تشکیل کردہ خصوصی ٹیم کو تفتیش کا اختیار نہیں دیا ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس معاملے میں کسی کو کوئی چھوٹ نہیں دی جا سکتی کیونکہ خصوصی ٹیم براہ راست سپریم کورٹ کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔
احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں2002 کے فسادات کے دوران 39 ديگر افراد کے ساتھ ہلاک ہو نے والے سابق ایم پی احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے جو شکایت درج کرائی تھی اس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ مسٹر مودی ، ان کے وزرا سنیئر اہلکار اور پولیس افسروں نےگلبرگ سمیت مختلف مقامات پر فسادات کی اعانت کی تھی۔
ہندوستان کی سپریم کورٹ نےگودھرا سمیت گجرات کے فسادات کے اہم واقعات کا جائزہ لینے اور مودی سمیت 62 اہم افراد سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم تفتیش کے بعد مودی کی کابینہ کی ایک وزیرسمیت بعض اہم افراد کو فسادات کے سلسلے میں پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔
گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مسٹر مودی سے پوچھ گچھ کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ فساد سے متاثرہ افراد کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم جن سنگھرش منچ نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم کے سربراہ مکل سنہا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ معاملہ ضرور انجام کو پہنچےگا ۔ '' اس کا سیدھا اثر یہ ہو گا کہ اب ایس آئی ٹی کو نہ صرف مودی بلکہ ان سبھی سے پوچھ گچھ کا واضح اختیار مل گیا ہے جن نام سپریم کورٹ کی عرضی میں شامل ہیں ۔ پوچھ گچھ کرنا اب ایس آئی ٹی پر لازم ہے ۔''
ذکیہ جعفری نے بھی امید ظاہرکی ہے کہ اب انہیں انصاف مل سکے گا ۔ بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا '' میں سات برس سے پروردگار سے یہی دعا کر رہی ہوں کہ مجھے انصاف دینا۔ جعفری صاحب نے کسی کا برا نہیں کیا تھا۔ مجھے انصاف ملنے کی پوری امید ہے۔''
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ 2002 میں جو کچھ بھی ہوا تھا وہ حکومت کی پوری مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا '' مجھے اب امید ہے کہ وزیر اعلی سے پوچھ تاچھ ہونے والی ہے ۔ یہ تو کم بڑی بات نہیں ہے ۔ اگر ایسا رہا تو کیس آگے بڑھے گا ۔۔۔ کچھ تو ہو گا۔''
خصوصی ٹیم کو اپنی رپورٹ تین مہینے کے اندر سپریم کورٹ کو پیش کرنی ہے ۔ یہ مدت آئندہ چند دنوں میں ختم ہو رہی ہے ۔ لیکن اگر اس نے مودی سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا تو اس مدت میں توسیع لازمی ہو گی ۔ وزیر اعلی مودی کے لیے یہ صورتحال یقینآ پریشان کن ہے۔





















