شرم الشیخ اعلامیہ، کانگریس کی بے چینی

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
وزیر اعظم من موہن سنگھ بدھ کو پارلیمان میں جب شرم الشیخ اعلامیہ پر بحث کے دوران اپنا موقف پیش کریں گےتو ان کی کوشش شاید حزب اختلاف سے زیادہ اپنی ہی پارٹی کے خدشات دور کرنے کی ہوگی۔ کانگریسی ذرائع کے مطابق پارٹی میں ’ناراضگی‘ کی دو وجوہات ہیں: مہارشٹر اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس اعلامیہ سے یہ تاثر گھر کرسکتا ہے کہ کانگریس حکومت ’دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی‘۔ اور دوسرا یہ کہ من موہن سنگھ نے ’جذبات کی رو میں بہہ کر‘ یہ فیصلہ کیا ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں۔ان کا بنیادی اعتراض بلوچستان کو اعلامیہ میں شامل کیے جانے پر ہے۔ ایک پرانے کانگریسی لیڈر کے مطابق پارٹی کے اندر ناراضگی کی جو خبریں ذرائع ابلاغ میں آرہی ہیں، وہ کافی حد تک درست ہیں۔ ان کے مطابق ’اگر ناراضگی نہیں تو بے چینی ضرور ہے۔۔۔‘ گزشتہ تقریباً دس دنوں میں خود منموہن سنگھ، نائب وزیر خارجہ ششی تھرور اور خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن الگ الگ انداز میں وضاحتیں پیش کرچکے ہیں۔ کبھی یہ کہ الفاظ کا انتخاب درست نہیں تھا تو کہیں یہ کہ مشترکہ اعلامیہ کوئی قانونی دستاویز نہیں جس پر عمل درآمد لازمی ہو یعنی اس سے پیچھے ہٹا جا سکتا ہے۔ پارٹی کے اندر ’بے چینی‘ کچھ اس حد تک سب پر عیاں ہونے لگی تھی کہ اطلاعات کے مطابق خود سونیا گاندھی کو مجبوراً مداخلت کرنی پڑی اور سینئر رہنماؤں کو اعلامیہ کا دفاع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ لیکن اب تک جو بحث ہوئی ہے وہ اس لحاظ سے یک طرفہ ہے کہ سیاست دانوں اور میڈیا دونوں نے شرم الشیخ اعلامیہ کو من موہن سنگھ اور ان کی ٹیم کی نااہلی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس بات کا کیا امکان ہے کہ خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن اور وزیر اعظم نے ایک ایسے دستاویز کی منظوری دے دی ہو جس سے وہ مطمئن نہ ہوں؟ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اعلامیہ در اصل بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا ہو، دونوں ملکوں کے درمیان کوئی خفیہ سودے بازی یا اتفاق ہوا ہو یا امریکہ نے انہیں کوئی یقین دہانی کرائی ہو۔۔۔ کیا یہ کشمیر کو ’فرنٹ برنر‘ سے ہٹانے کی راہ میں پہلا قدم تو نہیں؟ یہ سوال بہت سی زبانوں پر ہیں۔ خود من موہن سنگھ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس ’ہر سوال کا جواب‘ موجود ہے۔ لیکن اگر یہ وہی جواب ہیں جو وہ اب تک دے چکے ہیں تو لگتا نہیں کہ حزب اختلاف یا خود کانگریس میں ’بےچینی‘ کا شکار ان کے ساتھیوں کی تشویش کا ازالہ ہوگا۔ پیر کے شمارے میں انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اس دستاویز کی تفصیلات شائع کی ہیں جو ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے بارے میں ہندوستان کو دی گئیں ہیں۔
اخبار کے مطابق اس ڈوسئیر میں صاف طور پر یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ’ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی اور فنڈنگ اور ان کی راہ ہموار کرنے کا کام پاکستان میں ہوا تھا‘ اور یہ کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا وزیر اعظم نے اسی ڈوسئیر کی بنیاد پر یہ ’جرات مندانہ‘ قدم اٹھایا ہے؟ اس سوال کا جواب تو صرف من موہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی کے پاس ہے۔
لیکن بدھ کو وزیر اعظم اگر پارلیمان میں بحث کے دوران اپنے اسی موقف پر ڈٹے رہے کہ دہشت گردی اور پاکستان سے بات چیت کے معاملے میں حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، تو ان کے ’ججمنٹ‘ پر سوال اٹھتے رہیں گے۔















