سوائن فلو سے موت کی تحقیقات کا حکم

ردا کی موت سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے
،تصویر کا کیپشنردا کی موت سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی

مہاراشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوان ملک میں سوائن فلو سے ہلاک ہونے والی پہلی مریضہ چودہ سالہ ردا ساجد شیخ کی موت کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ردا کا انتقال پیر کی شام پونے شہر کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا تھا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق ردا کے والدین نے ہسپتال کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔ پونے میں طلب کی گئی ایک پریس کانفرنس میں ایڈوکیٹ آصف لیمپ والا نے کہا کہ ہسپتال کے خلاف سول اور کریمنل قانون کے تحت کیس کیا جائے گا۔

ردا کے والد ساجد شیخ نے کہا کہ یہ کیس کر کے وہ دنیا کو اس ہسپتال کے ڈاکٹروں کی لاپروائی دکھانا چاہتے ہیں تاکہ پھر کوئی معصوم کی جان نہ جائے۔ ردا کی والدہ نے روبی ہسپتال کی رپورٹ اور جہانگیر ہسپتال کے ڈاکٹروں کی لاپروائی کو اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔

ردا کے والدین نے جہانگیر ہسپتال کو ردا کی موت کا مبینہ طور پر ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ہسپتال نے انہیں وقت پر نہیں بتایا کہ ان کی بیٹی کو سوائن فلو ہوا ہے اور نہ ہی انہوں نے ان کی بیٹی کا صحیح طریقے سے علاج کیا۔

وزیر اعلی چوان نے منگل کو صبح ریاست کے اعلی ہیلتھ افسران کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں انہوں نے ریاست میں نگرانی بڑھانے اور اس وائرس کو مزید نہ پھیلنے کے لیے احتیاطی اقدامات میں اضافہ کرنے کی ہدایت دی۔

جہانگیر ہسپتال کے ذمہ داران نے گزشتہ دیر رات گئے ہنگامی طور پر پریس کانفرنس طلب کی اور اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے ہسپتال پر لاپرواہی کے الزام کو مسترد کر دیا۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ جس وقت مریضہ کو ہسپتال میں لایا گیا تھا اس وقت اسے صرف گلے میں خراش کی شکایت تھی۔

ان کے مطابق رپورٹ بھی نارمل آئی تھی۔ میڈیکل سپرنٹنڈینٹ نے یہ بھی وضاحت کی کہ چونکہ مریضہ ملک سے باہر نہیں گئی تھی اور اس کا کسی بھی سوائن فلو کے مریض سے کسی طرح کا تعلق نہیں بتایا گیا اس لیے انہیں شک نہیں ہوا۔ ایم ایس نےمزید کہا کہ تیس جولائی کو جب انہیں پتہ چلا کہ مریضہ کو سوائن فلو ہوا ہے انہوں نے اس کے علاج کے لیے سٹینڈرڈ طریقہ اپنایا تھا۔

ردا کے والد ساجد شیخ کے مطابق ردا نے اکیس جولائی کو گلے میں خراش کی شکایت کی۔ اسے بخار تھا اور ناک سے پانی بہہ رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے ایک پرائیوٹ ڈاکٹر سے علاج کرایا لیکن جب بخار نہیں اترا تو وہ اسے ہسپتال لے گئے۔ ساجد کا الزام ہے کہ ہسپتال نے لاپروائی برتی ان کی رپورٹ نارمل کیسے آسکتی ہے جب ان کی بچی کو معمولی فلو نہیں سوائن فلو ہوا تھا۔

ردا کی تدفین پیر کی شب ہی عمل میں آئی۔ ردا کے دادا اور ان کے دوست شاہد انعامدار کے مطابق ردا کی آخری رسومات کے لیے سب کو فیس ماسک پہننے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ریاستی وزیر تعلیم نے ردا کی سینٹ اینس سکول کو دو دنوں کے لیے بند کر دینے کا حکم دیا ہے۔ سکول کی نائب پرنسپل نرملا چاندے نے ردا کی موت پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات سے دھکا لگا ہے کہ اتنے بڑے سانحہ کے بعد بھی محکمہ صحت کی جانب سے کوئی بھی افسر سکول نہیں پہنچا ہے۔ چاندے کا کہنا ہے کہ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ انہیں کیا احتیاط برتنی چاہئے کیونکہ یہاں دو ہزار طلباء پڑھتے ہیں اور وہ سب کا سکرین ٹیسٹ نہیں کرا سکتی ہیں۔

مہاراشٹر میں پونے علاقہ HINI سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ یہاں کے نائیڈو سرکاری ہسپتال ذرائع کے مطابق اب تک یہاں ایک سو ایک مریض آئے تھے جن میں سے اس وقت چوبیس مریض ہسپتال میں موجود ہیں۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق انہیں ہسپتال کے علیحدہ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر سکولی طلباء ہیں۔ پونے کے چار سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے پونے کے انگریزی میڈیم سکول ابھینو کلا سکول کے طالبات سوائن فلو کے وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ ریاستی انتظامیہ نے اسے پہلے بند کر دیا اس کے بعد دیگر چھ اور سکولوں کو بند کرنا پڑا۔

ممبئی میں بھی سوائن فلو کے چند کیس درج ہوئے ہیں۔ ان مریضوں کا کستوربا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔ ردا کی موت سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔