ممبئی حملے: لاپتہ گواہ مل گیا

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی کرائم برانچ نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی حملوں کے لاپتہ گواہ نورالدین شیخ کو ان کے دوست کے گھر سے پکڑ لیا گیا ہے۔
شیخ کو جمعہ کو خصوصی عدالت میں ممبئی حملوں کے مقدمے کے ایک ملزم فہیم کے وکیل شاہد اعظمی کی جرح کا سامنا کرنا تھا لیکن وہ آج عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوئے۔
جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی عدالت میں غیر حاضری کی خبر ملنے کے بعد سے افسران شیخ کو ان کے دوستوں کے گھر تلاش کر رہے تھے اور آخر رات ساڑھے نو بجے کے قریب وہ اپنے ایک دوست کے گھر میں ملے۔
ممبئی حملوں کے زندہ بچنے والے واحد ملزم اجمل امیر قصاب کے علاوہ فہیم انصاری اور صباح الدین دو ہندوستانی ملزمان ہیں۔ ان میں سے فہیم پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کے کہنے پر ممبئی کا نقشہ بنایا تھا جسے نیپال میں صباح الدین کو دیا گیا تھا۔صباح الدین نے اسے لکھوی تک مبینہ طور پر پہنچایا تھا۔
شیخ نے جمعرات کے روز عدالت میں گواہی کے دوران کہا تھا کہ جس وقت فہیم نے صباح الدین کو نقشہ دیا تھا وہ اس وقت ان کے ساتھ نیپال میں موجود تھا۔
ماریا کا کہنا ہے کہ شیخ نے انہیں بتایا کہ سحری کرنے کے بعد وہ اپنے گھر سے دوست کے گھرگیا لیکن وہاں اس کی طبیعت خراب ہو گئی اس لیے وہ سو گیا۔ شام کو اس کی آنکھ کھلی تب تک عدالت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
ماریا نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ پولیس نے شیخ کو اس کے کس دوست کے گھر سے برآمد کیا۔ عدالت میں سرکاری وکیل اجول نکم نے عدالت کو شیخ کے لاپتہ ہونے کی خبر دی تھی۔
فہیم انصاری جن کے خلاف شیخ نے گواہی دی تھی آج انہیں فہیم کے دفاعی وکیل شاہد اعظمی کی جرح کا سامنا کرنا تھا۔ ایڈووکیٹ اعظمی نے شیخ کی گمشدگی پر شبہ ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب گواہ کو پولیس تحفظ دیا گیا ہے تو پھر وہ پولیس کی نظروں سے کیسے غائب ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوائنٹ پولیس کمشنر ماریا کے مطابق اب شیخ کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائےگا۔ جج ایم ایل تہیلیانی نے فہیم کے وکیل کو بھی پیر کے روز ہی عدالت میں حاضر رہنے کے لیے کہا ہے۔



















