جسونت سنگھ کی کتاب پر پابندی ختم

- مصنف, صلاح الدین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بھارت میں ریاست گجرات کی ہائی کورٹ نے بانی پاکستان محمد علی جناح پر لکھی گئی ایک کتاب پر لگی پابندی کو ختم کر دیا ہے۔ ریاست کے وزیراعلی نریندر مودی نے اس کتاب پر پابندی عائد کردی تھی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما جسونت سنگھ نے یہ کتاب لکھی ہے جس کے اجراء کے دوسرے روز ہی گجرات حکومت نے ایک نوٹس کے ذریعے اس کتاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس کتاب کا مطالعہ کیے بغیر ہی اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔
ریاستی حکومت نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بارے میں ایک نیا نوٹس جاری کرنا چاہتی ہے اس لیے اسے اس کے لیے وقت دیا جائے۔ لیکن عدالت نے سرکار کی اپیل مسترد کر دی اور کتاب پر عائد پابندی کو بھی ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اپنے رد عمل میں جسونت سنگھ نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا موقف درست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کتاب پر پابندی لگانے کا مطلب خیالات پر پابندی عائد کرنا ہے اور اگر کوئی کتاب کی مخالفت کرنا چاہتا ہے تواس کتاب کے خلاف ایک دوسری کتاب لکھ کر ایسا کرے۔
جسونت سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کا ذکر چھ سات بار آیا ہے لیکن کہیں بھی ان کے خلاف کوئی بات نہیں کہی ہے۔
اس کتاب میں مسٹر سنگھ نے لکھا ہے کہ تقسیم ہند کی ذمہ داری صرف جناح پر عائد نہیں ہوتی اور پنڈت نہرو بھی اس کے اصل ذمہ داروں میں سے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جناح نے پاکستان کو جیتا نہیں تھا بلکہ نہرو اور سردار پٹیل نے ہار مان لی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہیں خیلات کی پاداش میں مسٹر سنگھ کو بی جے پی سے نکال دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کتاب پر پابندی کے خلاف جسونت سنگھ نے سپریم کورٹ میں بھی مقدمہ دائر کیا ہے جس پر سماعت آٹھ تاریخ کو ہونے والی تھی لیکن اس سے قبل ہی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
کتاب پر پابندی کے خلاف دو کارکنان منیش جانی اور پرکاش شاہ نے مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی۔ عرضی گزاروں کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ جانے بغیر ہی کتاب پر پابندی عائد کردی ہے کہ جسونت سنگھ نے در اصل سردار پٹیل کے متعلق اپنی کتاب میں لکھا کیا ہے۔
سرکار نے کتاب پر یہ کہہ کر پابندی عائد کی تھی کہ اس میں سردار پٹیل کے متعلق غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے اس لیے اس سے ریاست میں امن و امان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔






















