’مقدمہ عالمی عدالت میں چلائیں‘

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچے ملزم اجمل امیر قصاب نے پیر کے روز عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں ہندستانی عدالت پر بھروسہ نہیں ہے اس لیے ان کا مقدمہ کسی بین الاقوامی عدالت میں چلایا جائے۔
ممبئی حملوں کی خصوصی عدالت میں اجمل امیر قصاب اور ان کے علاوہ دو ہندستانی ملزمان فہیم انصاری اور صباح الدین پر مقدمہ چل رہا ہے۔ جج ایم ایل تہیلیانی کے سامنے جیل حکام نے قصاب کی عرضی کو پیش کیا۔ قصاب نے جیل میں اردو زبان میں ایک درخواست لکھی جسے جیل حکام نے مراٹھی زبان میں ترجمہ کیا۔
عرضی دیکھنے کے بعد جج نے قصاب سے پوچھا کہ کیا یہ عرضی انہوں نے لکھی ہے اس کے جواب میں قصاب نے کھڑے ہو کر کہا کہ ’جی حضور‘۔
جج نے قصاب کی اس عرضی کو مبہم مشتبہ اور بے معنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جج نے مزید کہا کہ مقدمہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے ملزمان کا یہ ایک اور نیا حربہ ہے۔
اس سے قبل ہندستانی ملزم فہیم انصاری نے بھی عدالت میں اپیل کی تھی کہ ان کے مقدمہ کی سماعت روک دی جائے کیونکہ انہوں نے ممبئی ہائی کورٹ میں خصوصی عدالت میں ہونے والے کارروائی میں عدم اعتماد ظاہر کیا تھا۔ انصاری کا کہنا ہے کہ عدالت ان کا بیان ویڈیو ریکارڈ کرے۔ جج تہیلیانی نے انصاری کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔
قصاب کے وکیل عباس کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ قصاب نے اس سے پہلے بھی عدالت میں اعتراف جرم کرنے سے قبل ان سے مشورہ نہیں کیا تھا اور اس مرتبہ بھی ان کے موکل قصاب نے ان سے کسی طرح کا مشورہ نہیں کیا تھا۔
قصاب نے اس سے قبل عدالت میں اچانک اعتراف جرم کر کے سب کو چونکا دیا تھا۔
ممبئی حملوں کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی اس عدالت میں اب تک دو سو بیس سے زائد گواہان پیش ہو چکے ہیں۔ ان میں امریکی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے افسران بھی پیش ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممبئی پر گزشتہ برس چھبیس نومبر کو حملے ہوئے تھے۔ تین دنوں تک جاری رہنے والے ان حملوں میں پولیس کے مطابق ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔






















