’چاہیں تومجھے پھانسی دے دیں‘ : قصاب

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچے حملہ آور اجمل امیر قصاب نے آج عدالت کے سامنے کہا ہے '' اگر لگتا ہے کہ میں نے سزا کم کرنے کے لیے بیان دیا ہے تو مجھے پھانسی دے دو۔''
قصاب نے بدھ کو عدالت میں مزید کہا '' میں نے عدالت میں اقبال جرم کسی کے دباؤ میں نہیں کیا ہے اور نہ ہی مجھے کسی نے اذیت دی تھی بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں نے جو گناہ دنیا میں کیے ہیں ان کی سزا مجھے یہیں مل جائے میں خدا سے اس کی سزا نہیں چاہتا ہوں۔''
قصاب کے وکیل عباس کاظمی نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ملزم پر کسی طرح کا دباؤ ڈال کر ان سے اقبال جرم کرایا گیا ہو اور سرکاری وکیل کا ماننا تھا کہ ملزم نے سزا کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے اس پر قصاب نے آج عدالت میں اپنی صفائی پیش کی۔
سرکاری وکیل اجول نکم نے عدالت کی کارروائی کے آغاز میں عدالت کے سامنے اپیل میں کہا کہ عدالت قصاب کے اقبال جرم کو ریکارڈ کرے اور انہیں اپنے ثبوت پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔
نکم کے مطابق ملزم قصاب نے بہت سے جرم قبول نہیں کیے ہیں۔ اس نے کئی باتیں چھپائی ہیں۔ اس لیے عدالت ملزم کو بیان کو ریکارڈ پر لے اور استغاثہ کو اجازت دے کہ وہ ملزم کے اس جرم کو عدالت میں ثابت کرے جو اس نے اپنے اقبال جرم میں نہیں قبول نہیں کیے۔
نکم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح وہ اپنے بھی کئی ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر کیس ختم کر دیا جاتا ہے تو ایک بڑی سازش سے پردہ اٹھنا رہ جائے گا۔
نکم کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہیں ملزم کا اقبال جرم کسی سازش کے تحت تو نہیں کیا گیا ہے۔ نکم نے ملزم کے اقبال جرم کو ایک ڈرامہ قرار دیا۔
عدالت نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ قصاب کا بیان قبول کیا جائے یا نہیں۔ گزشتہ روز جج ایم ایل تہیلیانی نے کہا تھا کہ عدالت کے پاس تین راستے ہیں یا تو ملزم کا بیان قبول کیا یا پھر اسے رد کر دیا جائے تیسرا راستہ یہ ہے کہ بیان قبول ریکارڈ پر لے لیا جائے اور عدالت کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا ، جو ممبئی حملوں کی تفتیش کےسربراہ ہیں ، نے کہا کہ ملزم قصاب نے اپنے کئی جرائم قبول نہیں کیے ہیں اس لیے مقدمہ جاری رہنا چاہئے۔
ماریا کے مطابق ملزم نے صرف سی ایس ٹی ریلوے سٹٰشن پر کی جانے والی فائرنگ کے لیے خود کو ذمہ دار قرار دیا لیکن اس کے بعد سارا جرم اپنے ساتھی ابو اسماعیل کے سر پر ڈال دیا۔
قصاب نے بیس جولائی کو عدالت کے سامنے پہلی مرتبہ اقبال جرم کیا تھا۔



















