چوبیس بھارتی سمندری قزاقوں کے قبضہ میں

صومالیہ کے بحری قزاقوں نے الخلیق نامی ایک مال بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے جس میں جہاز کے عملے کے چھبیس افراد سوار ہیں۔ ان میں سے چوبیس بھارتی شہری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق عملے کے سبھی لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
یورپی یونین اور نیٹو کے جن اہلکاروں کو صومالیہ سے متصل ساحلی علاقوں میں قزاقوں سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے انہوں نے اس کے متعلق بتایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس سنمدری لٹیروں نے الخلیق نامی جہاز پر حملہ کیا۔ لٹیرے دو کشتیوں میں سوار تھے جنہوں نے جہاز پر دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی۔ اہلکاروں کے مطابق اب جہاز سنمدری لٹیروں کے قبضہ میں ہے۔
گزشتہ کچھ مہینوں میں صومالیہ سے متصل ساحلی علاقوں میں لوٹ مار کے حادثات میں اضافہ ہوا ہے جس سے نمٹنے کے لیے کئی ملکوں نے بحری فوج تعینات کی ہے لیکن جس وقت الخلیق پر حملہ کیا گیا اس وقت حفاظتی عملے کا جہاز اس سے آٹھ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔
سمندری حفاظت پر معمور یورپی یونین کی ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد اس طرف بیلجیم کا ایک حفاظتی جہاز بھیجا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ اس نوعیت کا ایسا تیسرا واقعہ ہے۔ گزشتہ ہفتے چین اور ایک سنگا پور کے جہاز کو اغوا کیا گیا تھا جو اب بھی لٹیروں کے قبضہ میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جہاز کو آزاد کرانے کے لیے چین طاقت کا استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اس برس صومالیہ کے بحری قزاقوں نے سینتالیس جہاز اغوا کیے ہیں اور اس طرح تقریباً چھ سو سے زائد جہاز کے عملے کو اپنے قبضہ میں لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















