دولت مشترکہ کے پتھر اور بھوپال متاثرین

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے دلی کو خوبصورت بنانے کی مہم زوروں پر ہے۔ لیکن حسب توقع اتنے زوروں پر بھی نہیں کہ کام وقت پر پورا ہو جائے!

بڑے بڑے عالیشان سٹیڈیم بنائے جارہے ہیں، میٹرو ریل کا جال تیزی سے پھیل رہا ہے اور تمام فٹ پاتھ کھدے پڑے ہیں، پرانے پتھر اکھاڑ کر نیا لال پتھر لگایا جارہا ہے۔۔۔

لیکن اس کے باوجود لوگ ہیں کہ بس۔۔۔آپ کس کس کی زبان روکیں گے۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ حب سے قومی ائر لائنز ائر انڈیا کو گیمز کا ’آفیشل کیریر‘ مقرر کیا گیا ہے کام کی رفتار اور سست ہوگئی ہے کیونکہ ائر انڈیا کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اب سب کو یقین ہے کہ کھلاڑی کبھی وقت پر ہندوستان نہیں پہنچ پائیں گے!

سب سے زیادہ لال پتھر انڈیا گیٹ کے ارد گرد نظر آرہا ہے کیونکہ کھیلوں کے دوران سب سے زیادہ سیاح اسی عمارت کا رخ کریں گے۔

لیکن جن لوگوں کو شکایت کرنے کی عادت ہے وہ پوچھ رہے ہیں کہ مالی دشواریوں اور کفایت شعاری کے اس دور میں صرف دس پندرہ دنوں کے لیے اتنا پیسہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اتنے پتھر میں تو ایک نیا انڈیا گیٹ بن جاتا!

تو جناب، زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کی حکومت آپ سے زیادہ ہوشیار ہے۔ہندوستان میں اس کے بعد بھی بڑے بڑے کھیل تماشے ہوں گے، اس لیے نئے فٹ پاتھ صرف کھیلوں کی مدت کے لیے بنائے جارہے ہیں، سنا ہے کہ بعد میں پرانے پتھر واپس لگا دیے جائیں گے!

بھوپال کے متاثرین سے ہمدردی

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھوپال گیس متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ جن کے عزیز و عقارب اس حادثے میں گزر گئے، ان کے نقصان کو کبھی مکمل طور پر پورا نہیں کیا جاسکتا۔۔۔

یہ بات تو بالکل سچ ہے لیکن سنگھ صاحب، ایک کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ آپ تو ملک کے سرکردہ ماہر اقتصادیات بھی ہیں اور وزیر اعظم بھی، آپ کو سمجھانا آسان ہے:

پچیس سال پہلے اس حادثے میں پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے لیکن آج تک سزا کسی کو نہیں ملی۔ چھ لاکھ لوگ گیس سے متاثر ہوئے جو آج تک مناسب معاوضے کا انتظار کر رہے ہیں۔

صرف دو کام کر دیجیے تو کچھ حد تک نقصان پورا ہوسکتا ہے۔ سن چوراسی کے ہی سکھ مخالف فسادات کے بعد جس بنیاد پر بھی متاثرین کا نقصان پورا کیا گیا تھا، وہی پیمانہ ان لوگوں کے لیے بھی اپنا لیجیے اور اگر سزا نہیں دلوا سکتے تو اس سانحے کی ذمہ داری کا تعین ہی کروا دیجیے۔ اس سے لوگوں کے زخم کچھ ہلکے ہوں گے۔

آپ کو تو یاد ہوگا کہ جب اس حادثے کے تین دن بعد یونین کاربائڈ کے سربراہ وارین اینڈرسن بھوپال آئے تھے تو انہیں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ لیکن چند ہی گھنٹوں میں انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا، ایک سرکاری طیارے سے دلی لایا گیا اور ہمیشہ کے لیے امریکہ روانہ کر دیا گیا۔ آج بھی ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ موجود ہیں۔

آپ نے کہا ہے کہ ’اس سانحے کی تباہی آج بھی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔‘ اگر یہ واقعی سچ ہے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟

جو کرے گا شیر کرے گا!

ویسے تو یہ ڈائری انڈیا کے بارے میں ہے لیکن ٹائگر وڈز کا ذکر کیے بغیر رہا نہیں جاتا۔ ٹائگر سے ہمیں خاص محبت ہے، یہ انڈیا کا قومی جانور جو ہے۔

ٹائگر، آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف گولف کورس پر ہی نہیں پورے جنگل پر آپ کا راج ہے، اور صنف نازک کے ساتھ اگر آپ کی کامرانیوں کے بارے میں اخبارات میں چھپنے والی خبریں درست ہیں، تو بس ذرا احتیاط۔۔۔ ہندوستان کے جنگلوں سے بھی شیر تیزی سے ناپید ہو رہا ہے!