پہلا مسلمان پی ایم لیکن رمضان میں کیا ہوگا؟

تیلنگانہ کے لیے مظاہرے
،تصویر کا کیپشنمظاہروں کے لیے سکیورٹی انتظامات
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

یہ تو آپ نے پڑھ ہی لیا ہوگا کہ ایک سیاسی رہنما کی گیارہ روزہ بھوک ہڑتال سے ڈر کر حکومت ہند نے آندھرا پردیش کو تقسیم کرکے ایک علیحدہ تیلنگانہ ریاست بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ہندوستان کی انتیسویں ریاست ہوگی۔

تیلنگانہ کا مطالبہ پچاس سال پرانا ہے جو صرف گیارہ دن کی بھوک ہڑتال سے حل ہوتا نظر آرہا ہے۔

لیکن اب مغربی بنگال سے بھی اطلاعات ہیں کہ گورکھا لینڈ کا مطالبہ منوانے کے لیے گورکھا لینڈ جن مکتی مورچہ کے رہنما بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔

حکومت نے جو نظیر قائم کی ہے اس کے بعد اس مطالبے کو ٹالنا مشکل ہوگا۔

میں سوچ رہا تھا کہ اگر صرف کھانا پینا چھوڑنے سے علیحدہ ریاست مل سکتی ہے تو اگلے رمضان میں ہندوستان کا کیا حال ہوگا؟

پہلا مسلمان وزیر اعظم

راہل گاندھی

کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ایک دن کوئی مسلمان بھی ہندوستان کا وزیر اعظم بن سکتا ہے لیکن یہ عہدہ اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے نہیں اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ملے گا۔

انہوں نے منموہن سنگھ کی مثال دی جو سکھ ہیں۔ اور ہندوستان میں سکھوں کی تعداد عیسائیوں سے بھی کم ہے۔ لہذا یہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ انہوں نےیہ بھی کہا کہ من موہن سنگھ سکھ ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز نہیں ہیں۔

یہ سچ ہے کہ من موہن سنگھ بہت قابل ہیں اور ایماندار بھی۔ لیکن وہ سیاسی رہنما ہونے کی وجہ سے بھی وزیر اعظم نہیں ہیں۔

انہوں نے زندگی میں کبھی کوئی الیکشن نہیں جیتا ہے اور وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو کبھی لوک سبھا کے رکن نہیں رہے!

تو پھر وہ وزیر اعظم کیوں ہیں؟ کیونکہ وہ سیدھے سادے انسان ہیں اور گاندھی خاندان کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ راہول آپ کو معلوم ہے کہ ایسے قابل مسلمانوں کی بھی ملک میں کوئی کمی نہیں ہے۔ اگر آپکو پھر بھی کوئی نظر نہ آئے تو پلیز قابلیت کی شرط بھی ہٹا دیجیے! شاید مسئلہ حل ہوجائے۔