ممبئی حملے: گواہوں کی شنوائی مکمل

ممبئی حملے کے ملزم اجمل امیر قصاب، فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنممبئی حملوں کے ملزم اجمل امیر قصاب کا بیان سولہ دسبمر کو ریکارڈ کیا جائے گا
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی

گزشتہ برس ممبئی پر ہوئے حملوں کے مقدمہ کی سماعت کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالت میں سرکاری وکیل اجول نکم نے بدھ کو چھ سو دس گواہان کی گواہی مکمل کر لی ہے۔

بدھ کے روز عدالت میں استغاثہ کی جانب سے ایڈیشنل پولیس کمشنر دیوین بھارتی اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر اسوک دورافے کی گواہی مکمل ہوئی۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے قصاب اور ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ کے اراکین کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے ثبوت کے طور پر 267 گواہان کو عدالت کے روبر پیش کیا اور ان کی گواہی ریکارڈ کی گئی۔ لیکن بقیہ گواہان کو روایتی گواہان کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کے حلف نامے عدالت میں داخل کیے گئے۔

سرکاری وکیل نکم نے اپنا کیس ختم کرنے کے بعد صحافیوں سے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں شاید یہ ایسا پہلا کیس ہے جسے چھ ماہ کے عرصہ میں مکمل کر لیا گیا ہے۔انہوں نے ایک سوال کےجواب میں کہا کہ شکاگو میں گرفتار ڈیوڈ کولمن ہیڈلی اور تہور رانا کی گرفتاری کا اس مقدمہ پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے ذریعے انہوں نے ہیڈلی اور رانا کے خلاف داخل کردہ فرد جرم کی کاپی حاصل کرنے کی درخواست پیش کی ہے۔ نکم کا دعویٰ ہے کہ اگر ممبئی پولیس نے ہیڈلی اور رانا کے خلاف یہاں کیس درج کیا تو عدالت میں ان کے خلاف ضمنی فرد جرم داخل کرنے کے بعد ان کے خلاف علیحدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔

گواہی کے مکمل ہونے کے بعد اب استغاثہ کے پیش کردہ گواہان کی بنیاد پر حملوں میں زندہ بچے مبینہ ملزم اجمل امیر قصاب کی گواہی اٹھارہ دسمبر کو عدالت میں ریکارڈ کی جائے گی۔

ملزم کے وکیل کے پی پوار نے عدالت سے کہا کہ ان کے موکل ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست نہیں ہیں اس لیے ایسے میں ان کی گواہی نہ لی جائے۔ عدالت نے ملزم سے جواب طلب کیا کہ کیا وہ بیان دینے کے لیے تیار ہیں۔ ملزم نے حامی میں سر ہلا دیا۔

تاج محل( فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنسرکاری وکیل نے قصاب کو قصوروار قرار دینے کے ساتھ ہی یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی کہ ممبئی حملوں کی سازش مبینہ طور پر پاکستان میں رچی گئی تھی۔

حملے کا مقدمہ آٹھ مئی سے شروع ہوا تھا اس دوران استغاثہ نے مجسٹریٹ کے روبرو قصاب کا ریکارڈ کردہ اقبالیہ بیان بطور ثبوت پیش کیا۔ سرکاری وکیل نے اعلیٰ پولیس افسران ، فورینسک ماہرین، عینی شاہدین اور امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کے اہلکاروں کو بطور گواہ پیش کیا۔

سرکاری وکیل نے قصاب کو قصوروار قرار دینے کے ساتھ ہی یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی کہ ممبئی حملوں کی سازش مبینہ طور پر پاکستان میں رچی گئی تھی اس کے لیے انہوں نے قصاب کے اقبالیہ بیان کو بنیاد بنایا تھا۔

استغاثہ نے فرد جرم میں پینتیس افراد کو مفرور قرار دیا تھا جس میں سے عدالت نے سرکاری وکیل کی ایماء پر لشکر طیبہ کے مبینہ ستائیس اراکین کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا، جسے انٹرپول کےحوالے کیا گیا۔ ان میں کالعدم لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید اور ذکی الرحمنٰ لکھوی کے نام شامل ہیں۔

اس کیس میں قصاب کے دفاعی وکیل پہلے عباس کاظمی تھے جنہیں عدالت نے مبینہ طور پر عدالت کے ساتھ تعاون نہ کرنے جیسے الزام کے تحت برطرف کر دیا تھا۔ ایڈووکیٹ کاظمی نے استغاثہ کی جانب سے تین سو چالیس روایتی گواہان کی گواہی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان میں سے چند کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے عدالت نے مقدمہ کو غیر ضروری طور پر طول دینے کی کوشش قرار دیا تھا۔

قصاب کی گواہی کے بعد عدالت میں پیش کردہ ثبوتوں پر دونوں وکلاء کی بحث ہو گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ عدالت مقدمہ کا فیصلہ آئندہ برس کے اوائل میں سنا دے۔

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسندانہ حملے ہوئے تھے جن میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور تین سو چار زخمی ہوئے تھے۔