دفتری اوقات میں سوشل نیٹ ورکنگ

فیس بک
،تصویر کا کیپشنسروے کے مطابق سوشل نیٹورکنگ سائٹس کی وجہ کمپنیوں میں کام متاثر ہورہا ہے۔

ہندوستان میں ایک ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازم دفتر میں اپنے کل وقت کا ساڑھے بارہ فی صد حصہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر گنوا دیتے ہیں۔

بھارتی کمپنیوں کی اسوسی ایشن ایسوچیم کے اس سروے کے مطابق تقریبا ہر کمپنی کے ملازم کم از کم ایک گھنٹہ فیس بک جیسی سائٹس پر رہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک کمپنی میں ایک دن میں آٹھ گھنٹے کام کرنا ہوتا تو ملازم صرف سات گھنٹےکام کرتے ہیں۔

یہ سروے دلی، چندی گڑھ، احمد آباد، کوچی، دہرا دون اور دسروں شہروں میں تقریبا چار سو ملازمین سے بات چیت پر مبنی ہے۔

سروے میں جن افراد سے انٹریو کیے گئے ہیں ان میں اکیس برس سے ساٹھ برس تک کے افراد شامل ہیں۔

ایسوچیم کے سیکرٹری ڈی ایس راوت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کمپنیوں میں ملازمین 'اس طرح کی ویب سائٹوں پر وقت ضائع کرتے ہیں۔ ڈی ایس راوت اس چلن کو خطرناک مانتے ہیں۔ ان کے مطابق سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی وجہ سے کمپنیوں کی ’پیداواری صلاحیت‘ متاثر ہو رہی ہے۔

ڈی ایس راوت کہتے ہیں کہ بعض کمپنیوں نے اس طرح کی ویب سائٹس استعمال کرنے والے ملازمین پر نظر رکھنے والے سافٹ ویئر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

سروے کے مطابق سبھی کمپنیوں کے بائیس فی صد ملازمین کے فیس بک پر اکاوئنٹ ہیں۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے چوراسی فیصد لوگ انٹرنیٹ کے اس قدر عادی ہیں کہ اگر انہیں انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے ٹوک دیا جائے تو وہ سخت ناراض ہوتے ہیں۔