بھارت اور پاکستان کےلیے امن کا کارواں

    • مصنف, صلاح الدین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

اعتزاز احسن اپنی نظم سناتے ہوئے ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہے، جنگ کرنے ہر فوج کھڑی ہےمذہب اور تہذیب کے بل پر، قوم سے دیکھو قوم لڑی ہے۔یوں لگتا ہے ایک ہی طاقت، ارض خدا پر گھوم رہی ہےیوں لگتا ہے ہر اک دیوی، پاؤں اسی کے چوم رہی ہے۔اس کی بمباری کے باعث خوں میں سب لبریز ہوئے ہیںمذہب میں شدت آئی ہے خودکش جنگجو تیز ہوئے ہیں۔

پاکستان کے معروف وکیل اور رہنماء اعتزاز احسن نے دلی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کےحوالے سے تین روزہ کانفرنس میں اپنی اس نظم سے نہ صرف لوگوں کا دل جیتا بلکہ موثر انداز میں امن کا پیغام بھی دے گئے۔

ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جنہیں دوبارہ شروع کروانے کے لیے سول گروپ کی اس تین روزہ کانفرنس میں دونوں ممالک کی سرکردہ شخصیات نے حصہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور پاکستان کی عوام امن چاہتے ہیں اس لیے امن مذاکرات شروع کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر اعتزاز احسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ اس لحاظ سے بہت خوشگوار رہا کہ بہت سے ایسے لوگوں سے ان کی ملاقات ہوئی جو دونوں ممالک کے لیے امن کے خوہاں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ساٹھ برس کی تلخیاں پائی جاتی ہیں اس لیے راستہ آ‎سان نہیں ہے۔’امن کا راستہ دشوار گزار ہے۔ اس میں عوام کی رائے کو تبدیل کرنا ہوگا، حکومتوں اور ایجنسیوں کے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی اور یہ احساس بھی ہمہ وقت رہنا چاہیے کہ دونوں ملکوں کو ایک ساتھ رہنا ہے اور ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک دوسرے کو مٹا دےگا۔‘

اعتزاز احسن کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار اور بہتر رشتوں کے لیے اس طرح کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔

ممبئی حملوں کے بعد سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بھارت پر کئی جانب سے دباؤ پڑا ہے لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکل سکا ہے۔ لیکن اس کانفرنس کے منتظمین میں سے ایک اور بھارت کے سینیئر صحافی کلدیپ نيّر پر امید ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ہماری کوشش ہے کسی بھی طرح فریقین کے درمیان نفرت کم ہو اور حکومت پر بات چیت شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ ہم نتائج کے خوف سے اچھی کوششوں کو نہیں روک سکتے۔‘

کانفرنس کے نمائندے
،تصویر کا کیپشندونوں ملکوں کی سرکردہ شخصیات موجود تھیں

ممبئی حملوں کے حوالے سے کلدیپ نیّر کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ بعض لوگوں نے غلطیاں کی ہیں ’لیکن اس کی سزا خطہ کی عوام کو نہیں دی جا سکتی۔‘

فلم کار اور بالی وڈ کی جانی مانی ہستی مہیش بھٹ نے بھی اس کانفرنس کو خطاب کیا اور حالات کو بگاڑنے کے لیے میڈیا کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ ’ہم سول گروپ چپ تو نہیں بیٹھ سکتے لیکن اچھے رشتے اور امن کا حصول بغیر حکومت کی کوششوں ممکن نہیں ہے۔ حکومت نے ایک ایک اینٹ سے جو نفرت کی دیوار کھڑی کی ہے اسے وہی گرا سکتی ہے۔‘

مہیش بھٹ نے کہا کہ دو ہزار تین کی کوششیں جس منزل پر پہنچی تھیں ’ممبئی حملہ کے بعد ہم وہاں سے بہت پیچھے پہنچ گئے ہیں اور اب پھر اس کے لیے طویل راستہ طے کرنا ہوگا۔‘

تین روزہ کانفرنس میں متعدد نمائندوں نے امن کی ہی بات کی لیکن اس کا حصول کیسے ہو اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض کے نزدیک تجارتی اور ثقافتی روابط درست کرنے سے مسائل حل ہوسکتے ہیں تو بعض نے امن کی راہ میں سب سے بڑا رخنہ مسئلہ کشمیر کو بتایا۔

پاکستانی فنکار مدیحہ گوہر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں میں تہذیب و ثقافت کے فروغ سے عوام کی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اس لیے ’حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس کے لیے تمام ممکنہ راستے ہموار کرے۔‘

یہ پہلا موقع تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کی بات پر کانفرنس میں بعض کشمیری رہنماؤں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک جب بولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو بعض سخت گیر کشمیری پنڈتوں نے اعتراض کیا اور ان کی ہنگامہ آرائي سبب وہ خطاب نہیں کر سکے۔

لیکن سجاد لون نے اپنا ایک خاکہ ضرور پیش کیا۔ بی بی سی بات چیت میں مسٹر لون نے کہا ’میرے نزدیک مسئلہ کشمیر کے حل بغیر امن مشکل ہے اور اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو جنوبی ایشاء ایک نئی اور روشن صبح سے ہم کنار ہوگا۔‘

بھارت کے دانشور مشیر الحسن کا کہنا تھا کہ ممبئی حملہ کے بعد کے حالات میں ’پاکستان کو دہشتگردی کے حوالے سے بھارت کو اعتماد میں لینا ہوگا ورنہ بات آگے بڑھنا مشکل لگتی ہے۔‘ تاہم ان کے بقول ایسی کانفرسوں سے حکومتیں بیدار ضرور ہوں گي۔

معروف صحافی سیما مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ اس بار کشمیری قیادت بھی شامل ہوئی ہے جو ایک اچھی خبر ہے۔ ’اس وقت تقریباً سبھی کشمیری گروپ خود مختاری کی بات کر رہے ہیں اور آزادی کی بات نہیں ہورہی۔ یہ حکومت کے لیے بہتر موقع ہے کہ وہ اس وقت آگے بڑھ کر اس بات چیت کرے تاکہ امن بحال ہو، اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر شدت پسندی اس طرح واپس ہوسکتی ہے کہ اس پر قابو پانا بھی مشکل ہوگا۔‘

سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارت پر مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے زور کیسے ڈالا جائے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بھارتی شرطیں غلط ہیں۔ ’ممبئی حملوں آوروں کو سزا دیئے بغیر حکومت سے بات نہ کرنے کی شرط درست نہیں ہے۔ سزا دینا عدالتوں کا کام ہے حکومت کا نہیں۔‘

یہی بات بھارتی دانشور اصغر علی انجینیئر نے بھی کہی۔’ممبئی حملہ ایک اہم پہلو ہے لیکن اس کے لیے پاکستانی عوام ذمہ دار نہیں اور نہ ہی اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔‘

اس کانفرنس کے اہتمام کرنے والے یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ایسے بحث و مباحثے مسئلہ کا حل نہیں لیکن بات چیت بحر حال مناسب ماحول بنا سکتی ہے۔

اس کانفرنس میں بھارت اور پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سرکردہ شخصیات نے حصہ لیا۔ ممبئی حملوں کے بعد یہ اپنی نوعیت کی دلی میں ایک خاص اور پہلی کانفرنس تھی۔