’پاکستان کا دورہ کرنے سے گریز کریں‘

سکھ مسافر
،تصویر کا کیپشنہندوستان سے ہربرس ہزاروں سکھ ننکانا صاحب زیارت کے لیے جاتے ہیں۔
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

حکومت ہند نے بھارتی زائرین کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وہ ہمسایہ ملک کا سفر نہ کریں جبکہ وزیر دفاع اے کے انٹونی نے پاکستان کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ ہندوستان طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

وزارت داخلہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت ہند کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں زیارت کے لیے پاکستان جانا مناسب نہیں ہے کیونکہ صوبہ پنجاب میں، جہاں زیادہ تر گردوارے واقع ہیں، دہشت گرد بار بار حملے کر رہے ہیں‘۔

ہندوستان سے ہر برس ہزاروں کی تعداد میں سکھ اور ہندو عقیدت مند پنجاب کا سفر کرتے ہیں جہاں دونوں ہی مذاہب کے کچھ انتہائی اہم مقامات واقع ہے۔ پنجاب میں واقع ننکانہ صاحب گرو نانک دیو کی جائے پیدائش ہے اور اس کا شمار سکھوں کے اہم ترین مذہبی مقامات میں کیا جاتا ہے۔

زائرین کو لے جانے کے لیے امرتسر ننکانہ صاحب کے درمیان براہ راست بس بھی چلتی ہے۔ اس طرح ہندو پنجاب میں ہی واقع کٹاس راج مندر میں پوجا کے لیے جاتے ہیں جن کی حفاظت کے لیے پاکستان میں سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔

حکومت کے مطابق ہندوستانی شہریوں کو زیارت کے لیے اس وقت تک پاکستان کا سفر کرنے سے بچنا چاہیے جب تک وہاں حالات بہتر نہ ہوجائیں۔

اسی دوران ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کو مسترد کیا ہے کہ ہندوستان افغانستان کی سرحد کے قریب سرگرم طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ اے کے انٹونی نے کہا کہ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ ’ہندوستان کبھی طالبان کی حمایت نہیں کرسکتا کیونکہ وہ عالمی امن کے الیے سب سے بڑا خطرہ ہیں‘۔ بنگلور میں وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھی کہا ہے کہ ’ہم طالبان اور ان کے نظریات کا خاتمہ چاہتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ پاکستانی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پس منظر میں پیر کو ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے اور یہ کہ’ میں نے مکمل تفصیلات فراہم کی ہیں۔ اگر ہندوستان کے وزیر داخلہ یا کوئی اور اس بارے میں مجھ سے بات کرنا چاہے تو میں اس کے لیے پوری طرح سے تیار ہوں‘۔اس سے قبل پاکستان کا یہ الزام بھی رہا ہے کہ بلوچستان میں جاری شورش میں ہندوستان کا ہاتھ ہے۔