انڈیا، ممبئی طرز کے حملوں کی وارننگ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبھارت اور پاکستان کے درمیان کشدیگی اب بھی پائی جاتی ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

امریکہ کے ایک سرکردہ تحقیقی ادارے '' کاؤنسل آن فارین ریلیشنز'' نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان کو مستقبل قریب میں پاکستان میں واقع دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے ایک بڑے حملے کا حقیقی خطرہ لاحق ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان اس طرح کے کسی حملے کی صورت میں ممبئی حملے کے برعکس اب فوجی کاروائی کرے گا۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے کہا ہے کہ پاکستان اب بھی بقول ان کے دہشت گرد تنظیمون کی مدد کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔

سنٹر فار پریونٹیوو ایکشن کی ویب سائٹ پر موجود امریکہ کے با وقار تحقیقی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے '' ہندوستان پر ممبئی طرز کے حملے کا خطرہ ناقابل تردید ہے۔''

اس کے مطابق پاکستان میں واقع لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمون کے لیے ہند پاک تعلقات کو خراب کرنے یا دہشت گردی کے خلاف اسلام آباد کی جد و جہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی مختلف ترغیبات موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جتنا زیادہ یہ واضح ہو گا کہ حملہ کرنے والی تنظیم کا تعلق پاکستان سے ہے اتنا زیادہ ہندوستان کی طرف سے فوجی کاروائی کا امکان ہو گا۔ '' فوجی کاروائی اس بات سے بھی طے ہو گی کہ ممکنہ دہشتگردانہ حملے میں کتنے لو گ ہلاک ہوتے ہیں اور یہ کہ کس طرح کے مقام پر حملہ کیا گیا ہے۔''

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ امریکہ کے واضح مفاد میں ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کسی حالت میں بھی فوجی ٹکراؤ نہ ہونے دے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کو ہند پاک مذاکرات پر خود کو مسلط کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اسے دونوں فریقوں کو خاموشی کے ساتھ یہ مشورہ دینا چاہیئے کہ وہ اپنی سفارتکاری کو سیاسی ٹکراؤ کے راستے سے الگ کر لیں۔

اسی دوران ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے لندن کے ایک اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں پاکستان اب بھی دہشت گردی کو پالیسی کے ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ انہون نے کہا '' پاکستان کے نکتہ نظر سے یہ اہم ہے کہ اکتوبر میں کامن ویلتھ گیمز میں رخنے پیدا کیے جائیں تاکہ پاکستان دنیا کو یہ بتا سکے کہ ہندوستان بھی محفوط نہیں ہے۔''

ممبئی حملے کے بعد دونوں ملکون کے درمیان بات چیت معطل ہے ۔ مزاکرات شروع کرنے اور صورتحال معمول پر لانے کے لیے دونوں ملکوں پر امریکہ سمیت کئی حلقوں کی طرف سے دباؤ پڑ رہا ہے ۔ گزشتہ ایک برس سے ہندوستان میں دہشت گردی کا کوئی اہم واقعہ رونما نہین ہوا ہے ۔اور بات چیت کے لیے ماحول میں کچھ نرمی پیدا ہو ئی ہے ۔ لیکن دہشت گردی کے نئے خطروں کی وارننگ سے یہ سازگار ہوتی ہو ئی فضا ایک بار پھر کشیدگی کی نذر ہو سکتی ہے۔