ہند - پاک بات چیت کے امکان ؟

ایم کے نارائنن
،تصویر کا کیپشننارائنن کا تعلق ملک کی خفیہ ایجنسیوں سے تھا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہندوستان میں قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن کو مغربی بنگال کا گورنر مقرر کیے جانے کے بعد سابق خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن اور شیام سرن کے نام نئے مشیر کے طور پر لیے جا رہے ہیں۔

نارائنن کا تعلق ملک کی خفیہ ایجنسیوں سے تھا اور اب قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے پر انٹیلیجنس اہلکاروں کے بجائے اعلیٰ سفارتکاروں کی ممکنہ تقرری وزیر اعظم کے دفتر کی بدلی ہوئی ترجیح اور حکمت عملی کی غماز ہے۔

ہندوستان میں شرم الشیخ کے ہند - پاک مشترکہ متنازعہ اعلامیے کے لیے اگرجہ مسٹر مینن کو ہی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن مختلف سرکاری حلقوں کی طرف سے جو اشارے مل رہے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسٹر مینن کے نئے مشیر بننے کے امکانات زیادہ ہیں ۔توقع ہے کہ نئے قومی مشیر کی تقرری آئندہ ایک دو دن کے اندر عمل میں آ جائے گی۔

اس اہم عہدے پر اگر کسی سفارتکار کی تقرری ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خفیہ ادارے جو ابھی تک قومی مشیر کو براہ راست رپورٹ کررہے تھے وہ اب وزیر داخلہ کے تحت آ جائیں گے۔

پـی چدامبرم کے وزیر داخلہ بننے کے بعد سکیورٹی کے اداروں اور خفیہ سروسز کو پہلے ہی ایک واحد ایجنسی کے تحت مربوط کیا چکا ہے اور ریسرج اینڈ انالیسس ونگ یعنی راء اور انٹیلی جنس بیورو وزیر اعظم کے دفتر کے بجائے اب وزیر داخلہ کو ہی رپورٹ کر رہے ہیں۔

چدامبرم
،تصویر کا کیپشنپـی چدامبرم کے وزیر داخلہ بننے کے بعد سیکیوریٹی کے اداروں اور خفیہ سروسز کو پہلے ہی ایک واحد ایجنسی کے تحت مربوط کیا چکا ہے

سابق سفارتکار کی تقرری اگر عمل میں آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وزیر اعظم کے دفتر کی توجہ آئندہ دنوں میں ایک بار پھر سرگرم سفارتکاری پر مرکوز ہو گی۔

ممبئی حملے کے بعد ہندوستان کے تعلقات پاکستان سے پوری طرح معطل ہیں۔ جمود ٹوٹنے کے کچھ اشارے گزشتہ ہفتے اس وقت ملے جب ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کئی مہینوں میں غالباً پہلی بار اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے فون پر بات کی ۔

اگر چہ یہ بات چیت مختصر اور وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ’ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف موثر کاروائی کرنے‘ کے ذکر تک محدود رہی لیکن یہ گفتگو اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ عام حالات میں کسی مخصوص سبب کے بغیر ممکن ہوئی ۔

اس مہینے لندن میں افغانستان کے سوال پر جو بین الاقوامی کانفرنس ہو رہی ہے اس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔

بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی دفتر خارجہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ اس کانفرنس کے دوران دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ کے درمیان بھی بات چیت ہو۔

ہند اور پاک کا پرچم
،تصویر کا کیپشنہند پاک بات چیت کے لیے بظاہر فضا میں کچھ نرمی پیدا ہوتی ہو ئی نظر آ رہی ہے

حالانکہ دونوں جانب سے اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کہا جا رہا لیکن بظاہر بات جیت کے لیے فضا میں کچھ نرمی پیدا ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

بہت ممکن ہے کہ بات چیت کا آغاز ہو جائے۔ ممـبئی حملے کے بعد فضا میں جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی وہ اب ماند پڑ چکی ہے۔ پچھلے ایک برس میں ملک میں دہشت گردی کا بھی کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔

آئندہ دنوں میں ہندوستان کی توجہ چین سے بھی بات جیت پر مرکوز ہوگی۔گزشتہ مہینوں میں سرحدی تنازعے کے سلسلے میں چین کا رویہ کافی سخت ہوا ہے ۔اگرچہ سرکاری طور پر اس کو کے بارے میں اور ہندوستان میں چین کے اس بدلے ہوئے رویے کے بارے میں خاصی تشویش پائی جارہی ہے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ اپنی پوری توجہ اب اقتصادی امور پر مرکوز کرنا جاہتے ہیں ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی ترجیح ٹکراؤ نہیں مصالحت اور مفاہمت ہے ۔

اسی لیے آنے والے دنوں میں قومی سلامتی کے مشیر اندرونی سلاتی سے زیادہ خارجی امور اور سفارتکاری پر توجہ دیں گے اور اندرونی سلامتی کی مکمل ذمے داری وزیرداخلہ پی جدامبرم کے ہاتھوں میں ہو گی جن کی کارکردگی اور صلاحیت سے وزیر اعظم بظاہر پوری طرح مطمئن ہیں۔