انڈیا ڈائری

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
سنا ہے کہ شاہ رخ خان سفر کی تیاری کر رہے ہیں، شو سینا نے انہیں پاکستان جانے کا فتوی جو سنا دیا ہے!
ان کی حماقت تو آپ کو معلوم ہی ہوگی۔ انہوں نے اپنی نادانی میں یہ کہہ دیا تھا کہ دنیا میں کرکٹ کے سب سے بڑے تماشے، آئی پی ایل، میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہ کیا جانا غلط تھا۔
اور بالی وڈ کے دوسرے خود اعلانیہ ’احمق‘ اور سوپر ہٹ فلم ’تھری ایڈیٹس‘ کے سٹار عامر خان نے بھی یہ ثابت کردیا کہ حقیقی زندگی میں بھی وہ احمق ہی ہیں۔ ان کا بیان بھی آپ نے سنا ہی ہوگا کہ کھلاڑیوں کو کسی ٹیم میں شامل کرتے وقت ان کی صلاحیت دیکھی جانی چاہیے، قومیت نہیں۔ ہے نہ بے تکی بات؟
آپ کو شاید شو سینا کی بات غلط لگ رہی ہوگی۔ لیکن کافی سوچنے سمجھنے کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ سب ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے جو شاید ترجمے کی غلطی سے پیدا ہوئی ہے۔
ممبئی پر حملوں کے فوراً بعد حکومت ہندوستان نے بار بار یہ کہا تھا کہ ان حملوں میں پاکستان کی سرزمین سے سرگرم ’سٹیٹ ایکٹرز اور پلیئرز‘ ملوث تھے۔ شو سینا والے بیچارے بے وجہ شتر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں چھپائے رکھنے کے لیے بدنام ہیں، وہ شاید یہ سمجھے کہ حکومت اداکاروں اور کھلاڑیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
یہ راز تو کسی سے چھپا نہیں ہے کہ شو سینا والے سب کے سب محب وطن ہیں۔ بس حکومت کو ذرا لفظوں کا صحیح انتخاب کرنا چاہیے۔
اور ہاں شاہ رخ، آپ بھی ذرا سوچ سمجھ کر بولا کیجیے۔ پورے ملک میں آپ نے پوسٹروں پر چھپوا رکھا ہےکہ ’مائی نیم اِز خان‘(میرا نام خان ہے) ۔ کیا آپ کو معلمو نہیں کہ شو سینا کو اس قسم کی اوچھی نمائش بلکل پسند نہیں؟ اسی لیے شاید وہ آپ کی فلم کی نمائش پر بھی پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ میرا تجزیہ درست ہو، لیکن مجھے خود ہی غلط لگ رہا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















