سادگی تو ہے مشکل جان
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
آسٹریلیا میں ہندوستانیوں پر حملے کی خبروں کے بعد وہاں کی پولیس نے رائے دی ہے کہ وہاں رہ رہے ہندوستانی غریب دکھنے کی کوشش کریں
آسٹریلیا میں نسل پرستوں کے حملوں سے بچنے کے لیے وہاں کے ایک اعلی پولیس افسر نے ہندوستانی طلبا کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو غریب نظر آنے کی کوشش کریں!
یہ کام تو مشکل نہیں، لیکن اس میں خطرہ اور بھی زیادہ ہے۔
سادگی کے ساتھ میرا تجربہ کبھی اچھا نہیں رہا۔ ہندوستان میں آپ سادگی سے رہیں تو دوکان میں سیلز مین بھی نظر انداز کرتے ہیں، وہ یہ مان کر چلتے ہیں کہ آپ صرف ٹائم پاس کر رہے ہیں، مغربی دنیا میں سادگی سے رہیں تو یا تو پولیس والے آپکو ’الیگل امیگرینٹ‘ یا غیر قانونی تارکِ وطن سمجھ کر روک لیتے ہیں یا اگر آپ کسی سپر مارکیٹ میں ہوں تو مقامی سفید فام باشندے آپکو سیلز مین سمجھ بیٹھتے ہیں!
انگلینڈ میں یہ میرے ساتھ بہت ہوا ہے۔ ہفتہ وار شاپنگ کرتے وقت اکثر لوگ پوچھ لیتے: ’کتوں کے بسکٹ کہاں رکھے ہیں؟ بچوں کے ڈائپر کس سیکشن میں ہیں۔'
لیکن پچھلے سال سے میں نے اپنا حلیہ کچھ سدھار لیا ہے۔ میں نے دلی بیورو میں کام کرنا شروع کیا ہی تھا۔ دلی میں جہاں آفس ہے، اس علاقے میں پارکنگ بہت مہنگی ہے۔ جب یہ پتہ چلا کہ آفس کی طرف سے پارکنگ کے لیے کچھ ’ہیلپ' ملتی ہے تو میں نے اکاؤنٹس میں جاکر پوچھا کہ رقم معمولی ہی صحیح، مجھے کیوں اس سے محروم رکھا گیا ہے؟
خاتون نے انتہائی حیرت اور معصومیت سے جواب دیا: سر، آپ کے پاس بھی گاڑی ہے؟
ممبئی آخر کس کی ہے؟

کچھ باتیں آپ کتنی بھی کوشش کریں، سمجھ میں نہیں آتیں۔ ہندوستانی آسٹریلیا جائیں، تو ان کے ساتھ برابری کا سلوک ہونا چاہیے۔ وہ محفوظ بھی رہیں، اچھی نوکریاں بھی کریں اور مقامی باشندے ان کی ترقی کو دیکھ کر خوش بھی ہوں۔
کم سے کم ہندو قوم پرست رہنما بالا صاحب ٹھاکرے تو یہی چاہتے ہیں۔ یہ ان کی’خارجہ پالیسی‘ ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، اور چند ہندوستانی طلبا کو آسٹریلیا میں نشانہ بنایا جاتا ہے، تو آسٹریلوی کرکٹرز کو ممبئی میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
اسی لیے ہندوستان کے وزیر زراعت شرد پوار نے بال ٹھاکرے کے گھر جاکر ان سے درخواست کی ہے کہ وہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں شرکت کی مخالفت نہ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹھاکرے نے شرد پوار کی اس ’درخواست‘ پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ٹھاکرے صاحب، لگتا ہے کہ آپ اچھے موڈ میں ہیں، ایک درخواست ہماری بھی ہے۔ ہمیں اس سے سروکار نہیں کہ آسٹریلوی کھلاڑی ممبئی میں کھیل پاتے ہیں یا نہیں، نہ پاکستانی کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں شرکت سے اور نہ شاہ رخ خان کی فلم ’ مائی نیم از خان‘ کی نمائش سے۔
ہماری درخواست تو صرف اتنی ہے کہ آپ اپنی ’داخلی پالیسی‘ میں بھی تھوڑی ترمیم کرلیجیے۔ جب غریب بہاری محنت مزدوری کرنے ممبئی جاتے ہیں تو انہیں نشانہ بنانے کے بجائے آپ بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کیا کیجیے جس کی تمنا آپ آسٹریلیا میں ہندوستانیوں کے لیے کرتے ہیں۔
ان بے چاروں کوتو یہ مشورہ بھی نہیں دیا جاسکتا کہ وہ جتنا ممکن ہو، غریب نظر آئیں!
ہندی میں ’آل از ویل‘
دلی کے امریکن ایمبیسی سکول میں زیادہ تر کوریائی اور امریکی بچے پڑھتے ہیں۔ ان میں سے تیسری کلاس کا ایک بچہ تھری ایڈیٹس دیکھ کر آیا اور اپنی ٹیچر سے بولا: ’میڈم‘ میں نے کل ہندی سیکھ لی۔ ایوری تھنگ از فائن کو ہندی میں آل از ویل کہتے ہیں۔





















