قصاب کے سابق وکیل کی سکیورٹی واپس

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی
ممبئی حملوں کے مشتبہ ملزم اجمل امیر قصاب کے سابق وکیل عباس کاظمی کو دی گئی پولیس سکیورٹی ہٹا لی گئی ہے اور انہیں اب خدشہ ہے کہ کہیں ان کے ساتھ شاہد اعظمی جیسا واقعہ پیش نہ آجائے۔
شاہد اعظمی کو گیارہ فروری کے روز تین حملہ آوروں نے ان کے دفتر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
عباس کاظمی نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ قصاب کے کیس سے برخاست کیے جانے کے بعد ایک پولیس کانسٹیبل ان کی حفاظت کے لیے مامور کیا گیا تھا جسے دس فروری کو اچانک فون آیا کہ وہ دفتر پہنچ جائے۔
کاظمی کہتے ہیں کہ انہیں اس وقت شدید دھکا لگا جب گیارہ فروری کو شاہد اعظمی کو قتل کر دیا گیا۔
پولیس نے اس قتل کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کیا جس میں سے ایک نے دوران تفتیش کرائم برانچ افسر کر مبینہ طور پر بتایا کہ ان کی ہٹ لسٹ پر مزید دو اور افراد ہیں جن میں ایک اور وکیل شامل ہے جو بم دھماکہ ملزمان کے کیس کی پیروی کرتے ہیں۔
کاظمی کا کہنا ہے کہ جب ان کی سکیورٹی ہٹا لی گئی تب انہوں نے ایڈیشنل پولیس کمشنر ( پروٹیکشن ) کو خط لکھ کر سکیورٹی ہٹائے جانے کا سبب پوچھا۔ کاظمی کے مطابق انہیں ڈپٹی پولیس کمشنر سنجے کی جانب سے جواب ملا کہ یہ سکیورٹی ان کے سینئر افسران کے کہنے پر ہٹائی گئی ہے۔
کاظمی کو گزشتہ برس پندرہ اپریل کو ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچے حملہ آور اجمل قصاب کے کیس کی پیروی کے لیے جج ایم ایل تہیلیانی نے نامزد کیا تھا۔ اس وقت انہیں زیڈ پلس سکیورٹی دی گئی تھی لیکن عدالت کے ساتھ مبینہ طور پر عدم تعاون کے الزام میں انہیں تیس نومبر کو برخاست کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کی سکیورٹی کم درجے یعنی وائی زمرے کی تھی۔
شاہد کے قتل کے بعد مسلم تنظیموں نے حکومت سے ایسے وکلاء کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے جو بم دھماکہ ملزمان کے کیس کی پیروی کر رہے ہیں لیکن حکومت اب تک خاموش ہے اور بار ایسوسی ایشن نے بھی اس سلسلہ میں کوئی پہل نہیں کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماضی میں عباس کاظمی سن ترانوے کے بم دھماکہ ملزمین کے دفاعی وکیل رہ چکے ہیں۔ وہ گھاٹ کوپر بم دھماکہ کے چاروں ملزمان کے کیس کی پیروی بھی کر رہے تھے لیکن بیچ میں ہی وہ اس کیس سے دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد یہ کیس شاہد اعظمی نے لڑا تھا۔
بم دھماکہ کیس کے ملزمان کی پیروی کرنے والے ایک اور سینئر وکیل مجید میمن پر بھی کچھ برس قبل روی پجاری گینگ کے لوگوں نے فائرنگ کی تھی اور انہیں دھمکایا تھا کہ وہ بم دھماکہ ملزمان کے کیس کی پیروی نہ کریں۔






















