انڈیا:ماؤنواز تشدد روکنے پر تیار

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں ماؤنواز باغیوں نے کہا ہے کہ اگر حکو مت ان کے خلاف اپنی کارروائی روک دے تو وہ بھی تشدد بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس سے پہلے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا تھا کہ باغی اگر بہتر گھنٹوں کے لیے تشدد روک دیں تو ان سے بات چیت ہو سکتی ہے۔
ماؤنوازوں کے ترجمان کشن جی کے بیان میں بات چیت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پچیس فروری سے نیم فوجی دستوں کی کارروائی روک دے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے کئی ریاستوں میں بیک وقت جاری ہے۔
نامہ نگار سوبیر بھومک کے مطابق اس سے پہلے بھی باغیوں کے ایک گروپ نے بات چیت کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا تھا لیکن کشن جی حکومت سے امن مذاکرات کے خلاف مانے جاتے ہیں۔
باغیوں کے رہنما گوپی ناتھ بات چیت کے حق میں بیان دے رہے ہیں کیونکہ ان کا موقف ہے کہ مسلسل تشدد سے قبائلیوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کشن جی پر بھی اب دباؤ بڑھ رہا ہے اور یہ پیش کش حکومت کی کارروائی کو روکنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے جس کی شدت مسلسل تیز کی جارہی ہے۔
گزشتہ ہفتے ماؤنواز باغیوں نے مغربی بنگال میں ایک کیمپ پر حملہ کر کے چوبیس پولیس اہلکاروں کو قتل کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بہار میں دس گاؤں والوں کو قتل کیا۔

















