کیا گجرات متاثرین کو انصاف ملے گا؟

نریندر مودی
،تصویر کا کیپشننریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ تفتیش میں پورا تعاون کریں گے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

'سنیچر کے مشکل مرحلے کے دوران آپ کی نیک تمناؤں، تشویش اور جزبات کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں ۔ خدا اس واقعے کے بعد مجھے اور زیادہ مضبوط بنائے۔'

یہ الفاظ ہیں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے جنہوں نے خصوصی تفتیشی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ کےبعد اپنے انٹرنٹ بلاگ میں ظاہر کیے ہیں ۔ انہوں نے مزيد لکھا ہے'میں نے پوری انکساری کے ساتھ اپنے ملک کے قانون اور اس کی بالا دستی کا احترام کیا ہے ۔'

سنیچرکو پہلے مرحلے میں پانچ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد جب مودی ایس آئی ٹی کے دفتر سے باہر آئے تو ان پر دباؤ واضح تھا لیکن انہون نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ بالکل نارمل ہیں ۔ رات میں نو بجے سے ایک بجے تک دوسرے راؤنڈ کی پو چھ گچھ کے بعد جب وہ باہر نکلے تو ان پر دس گھنٹے کی پو چھ گجھ کا اثر نمایاں تھا ۔

خصوصی تفتیشی ٹیم نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو انہیں دوبارہ طلب کیا جائے گا۔

ایس آئی ٹی کے سربراہ آر کے راگھون نے کہا ہے کہ مسٹر مودی سے پوچھ گجھ تفتیش کے عمل میں میں ایک بڑا قدم ہے 'گجرات میں کیا ہوا تھا ااس کے کچھ اسرار سمجھنے اور انہیں جاننے کی کوشش میں یہ ایک بڑی پیش رفت ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم وزیر اعلی سے پوچھ گچھ کر سکے۔'

سی بی آئی کے سابق ڈائرکٹر راگھون نے کہا کہ انہین پورا اعتماد ہے کہ وہ اپنی رپورٹ مقررہ مدت میں 30 اپریل کو سپریم کورٹ کو پیش کر دیں گے ۔

ایس آئی ٹی سپریم کورٹ نے تشکیل دی ہے اوریہ گودھرا سمیت گجرات فسادات کے نو اہم واقعات کی تفتیش کر رہی ہے ۔

پوچھ گچھ کے بعد ایس آئی ٹی گلبرگ رہائشی کمپلکس کے واقعے مین اگر مسٹر مودی کے خلاف معاملہ درج کرنے کی سفارش کر تی ہے تو ان سے اس معاملے میں نہ صرف پو جھ گچھ کی جا سکتی ہے بلکہ کیس کی نوعیت کی بنیاد پر حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی اس حقیقت کی روشنی میں تشکیل دی ہے کہ مقامی پولیس اور انتطامیہ متاثرین کو انصاف دینے میں ناکام رہی ہیں ۔ فساد کے بیشتر متاثرین کو مقامی پولیس ، انتظامیہ اور مقامی عدالتوں پراعتبار نہیں ہے ۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خود ایس آئی ٹی میں میں چار میں سے تین پولیس افسروں کا تعلق گجرات سے ہے اور ایک افسر تو خود گلبرگ سوسائٹی کے معاملے میں ذکیہ جعفری کی شکایت میں ملزم ہیں ۔

گزشتہ مہینے گلبرگ سوسائٹی کے معاملے میں خصوصی وکیل نے یہ الزام لگا کر استعفی دے دیا کہ ایس آئی ٹی کے ایک افسر کیس کو سبوتاز کرنے کے لیے گواہرں کو اپنا بیان بدلنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں ۔ انہون نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی ٹی اس معاملے میں ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے ۔

ایک دیگر معاملے میں گودھرا میں ٹرین جلائے جانے کے معاملے ایک گواہ نے الزام لگایا ہے کہ اسے ایس آئی ٹی کے افسروں نے گزشتہ مہینے قید کیا تھا اور ایذائین دی تھیں کیوں کہ اس کا بیان سرکاری بیان سے مختلف ہے ۔

اس میں کو ئی حیرانی نہیں کہ اس پس منظر میں سماجی کارکن اور حقوق انسانی کی علمبردار تیستا سیتلواڑ نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے جس میں ایو آئی ٹی کی تشکیل نو کی در خواست کی گئی ہے ۔ دوسری جانب بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے ایس آئی ٹی کے جواز کو جیلنج کیا ہے سپریم کورٹ ان معاملات پر پانچ اپریل کو سماعت کرے گی ۔

سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کواحمد آباد کے گلبرک رہائشی کملپکس میں فسادیوں نے2002 مین کئی گھنٹے کے محاصرے کے بعد 68 دیگر افرارکے ساتھ قتل کیا تھا ۔ ان کی بیوہ ذکیہ جعفری کی شکایت پر ہی سپریم کورٹ کے حکم پر ایس آئی ٹی نے مسٹر مودی سے پوجھ گچھ کی ۔ جب مسٹر مودی کی پیشی کی خبر انہیں دی گئی تو محترمہ جعفری پہلے مسکرائین اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں ۔

گجرات کے متاثرین کو یہ پتہ ہے کہ آٹھ برس گزرنے کے بعد بھی انصاف کے لیے ان کی جد وجہد ابھی بہت طویل ہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ 1993 کے ممبئی فسادات اور 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی طرح انہیں بھی شاید انصاف کبھی بھی نہ مل سکے۔