گجرات فسادات: مودی سے تفصیلی پوچھ گچھ
گجرات فسادات کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم ایس آئی ٹی نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سے احمدآباد کے رہائشی کمپلکس گلبرگ سوسائٹی میں 69 افراد کے قتل عام کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی ہے۔

<documentLink href="/urdu/multimedia/2010/03/100327_modi_clip_as.shtml" document-type="audio"> مودی ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ کے متعلق کیا کہتے ہیں</documentLink>
سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر آر کے راگھون کی سربراہی ميں ایس آئی ٹی کی تشکیل ملک کی سپریم کورٹ نے دی ہے ۔ یہ ٹیم 2002 کے گودھرا کے بہیمانہ واقعے سمیت گجرات فسادات کے اہم واقعات کی تفتیش کر رہی ہے۔
یہ پہلا موقعہ ہے جب وزیر اعلیٰ مودی فسادات کے سلسلے میں کسی تفتیشی ایجنسی کے سامنےحاضر ہوئے ہیں ۔ ان سے پوچھ گچھ پرانے سیکریٹریٹ میں واقع ایس آئی ٹی کے دفتر میں کی گئی۔ ایس آئی ٹی کے اہلکاروں نے مودی سے تقریباً پانچ گھنٹے تک سوالات کیے۔ سوالات کے دوران مسٹر مودی کے ساتھ کوئی وکیل یا معاون نہیں تھا۔
<documentLink href="/urdu/multimedia/2010/03/100327_zakia_jafari_clip_as.shtml" document-type="audio"> مودی مانیں کہ انہوں نے اپنا فرض پورا نہیں کیا: ذکیہ جعفری</documentLink>
<documentLink href="/urdu/multimedia/2010/03/100327_teesta_sitalwad_as.shtml" document-type="audio"> معاملہ بہت اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے: کمیونلزم کے خلاف سرگرم کارکن ٹیسٹا ستلواد</documentLink>
مسٹر مودی نے پوچھ گچھ کےبعد کہاکہ ’میں وزیر اعلیٰ اور ایک شہری کے طور پر قانون کا پابند ہوں اور اور ایس آي ٹی کے سامنے حاضر ہوکر میں نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے تفصیلی سوالات کیے۔
پوچھ گچھ ابھی نامکمل ہے اور انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر رات نو بجے حاضر ہونگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنہیں کسی قتل عام کے مجرمانہ معاملے میں تفتیش کاروں کے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
گلبرگ سوسائٹی بنیادی طور پر مسلمانوں کا ایک رہائشی کملپکس تھا جسے گودھرا میں ٹرین میں 58 کارسیوکوں کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کے بعد ہندوؤں کے ایک ہجوم نےکئی گھنٹے کے محاصرے کے بعد جلا دیا تھا ۔ اس واقعے میں سابق رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت 69 افراد مارے گئے تھے ۔ قتل کیے جانے سے قبل مسٹر جعفری نے حکومت اور پولیس کے متعد اہلکاروں سے فون کے ذریعے مدد مانگی تھی۔
جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے اس معاملے میں مودی اور ان کی کابینہ کے کئی وزرا سمیت متعد اعلی اہلکاروں پر فسادیوں کی پشت پناہی کرنے اور دانستہ طور پر فسادیوں کو نہ روکنے کا الزام عائد کیا تھا۔ گجرات پولیس نے ان کی شکایت ابھی تک درج نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ میں محترمہ ذکیہ کی درخواست کے بعد ایس آئی ٹی نے ان کی شکایت کی بنیاد پر مسٹر مودی سے پوچھ گچھ کی ہے۔
محترمہ جعفری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ’یہ بہت اہم دن ہے ۔ آٹھ برس بعد ہی صحیح مودی کچھ تو سج بولنے کے لیے مجبور ہونگے۔‘
گجرات حکومت کے ترجمان جے نارائن ویاس نے کہا ہے کہ ’وزیر اعلی کے ایس آئی ٹی کے سامنے حاضر ہونے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے مسٹر مودی قانون اور دستور کے پابند ہیں۔‘





















