مودی سے انکم ٹیکس محکمہ کی تفتیش
- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی، ممبئی
محکمہ انکم ٹیکس کے اعلی افسران انڈین پریمیئر لیگ کے چیئرمین اور کمشنر للت مودی سے تفتیش کر رہے ہیں۔ جمعرات کی شام اچانک انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے ممبئی میں موجود آئی پی ایل کے دفتر میں دستاویزات کی جانچ کی اور اطلاعات کے مطابق دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔
دفتر میں کاغذات کی جانچ کے بعد مودی کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے طلب کیا۔ مودی سے اس وقت تفتیش جاری ہے۔ مودی نے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی اس جانچ کے بارے میں کہا تھا کہ دفتر پر چھاپہ نہیں مارا گیا ہے بلکہ کاغذات کی جانچ کی جا رہی ہے کیونکہ محکمہ انکم ٹیکس کو کوچی کی نئی ٹیم سے متعلق معلومات حاصل کرنی تھی۔
اطلاعات کے مطابق انکم ٹٰکس ڈپارٹمنٹ یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ آئی پی ایل ٹیم کے مالکان نے فنڈی کہاں سے جمع کرایا۔ محکمہ انکم ٹیکس کے ذرائع کے مطابق اب آئی اپی ایل کی تمام دس ٹیموں کے تمام کاغذات اور مہیا کرائے گئے فنڈز کی جانچ ہو گی۔
آئی پی ایل میں فنڈ کی دستیابی کا یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کوچی کی نئی ٹیم کے پروموٹرز کی شناخت پر سوالیہ نشان لگایا گیا۔ مودی نے بدھ کے روز ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کوچی ٹیم کے مالک کون ہیں اور اس ٹیم میں کس کا کتنا حصہ ہے یہ بات وہ بھی نہیں جانتے جنہوں نے ٹینڈر بھرا تھا۔ مودی کا کہنا تھا کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ جانیں کہ اصل میں ٹیم کا مالک کون ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ تنازعہ کوچی ٹیم میں ایک حصہ دار کی وجہ سے ششی تھرور اس پورے تنازعہ کا حصہ بنے کیونکہ وہ تھرور کی بہت قریبی مانی جاتی ہیں۔
آئی پی ایل چیئرمین مودی اور وزیر مملکت برائے خارجی امور ششی تھرور کے درمیان اسی بات کو لے کر مبینہ طور پر تنازعہ شروع ہوا تھا۔
منسٹر تھرور اور مودی کے اس معاملہ نے اتنا طول پکڑ لیا کہ سیاسی جماعتوں نے بھی دخل اندازی شروع کی۔ حزب اختلاف جماعت بی جے پی نے ششی تھرور کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن آج این سی پی صدر اور مہاراشٹر کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ شرد پوار نے ششی تھرور کی حمایت میں بیان دیا۔ جسے کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔















