ٹرینوں کو سکیورٹی دیں گے:ماؤ نواز
بھارت کی مشرقی ریاستوں میں سرگرم ماؤ نواز باغیوں کے ایک اعلیٰ رہنما نے ان تمام ٹرینوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جو ان کے علاقے سے گزرتی ہیں۔
ماؤ نوازوں کے ترجمان کامریڈ آکاش نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ انہوں نے انڈیا کے ریل کے محکمے سے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے تمام ٹرینیں چلائیں جن میں رات والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا ہم تمام ٹرینوں کو بشمول مال گاڑی کے مکمل سکیورٹی فراہم کریں گے۔ ’ہم کسی کو ٹرین پر حملہ نہیں کرنے دیں گے اور ایسا کرنے والے سخت سزا بھگتنا ہوگی‘۔
ماؤ نوازوں نے جمعہ کو ایک ٹرین پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے اور اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ کولکتہ سے ممبئی جانے والی اس ٹرین پر حملے میں تقریباً ایک سو پچاس لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔
ماؤ نوازوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حملہ آور ان کا کوئی قریبی شخص ہوا تو اسے بھی سزا ملے گی۔ ان کے اس بیان سے پولیس کی رائے کو تقویت ملتی ہے کہ جمعہ کو ٹرین پر حملے میں ماؤ نوازوں کے قریبی لوگ شامل ہیں۔
تاہم پولیس اور عدالت کے ریکارڈ کے مطابق جن پر اس حملے کا الزام لگایا جا رہا ہے انہیں دسمبر میں ضمانت پررہا کر دیا گیا تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق حملے کے مرکزی ملزم اماکانتا مہتو ہیں جو چھ مال قبل اس وقت ضمانت پر رہا کیے گئے تھے جب پولیس نے ان کی رہائی کی درخواست کی مخالفت نہیں کی تھی۔حملے کے دوسرے بڑے ملزم بپی مہتو ہیں۔
مغربی بنگال میں پولیس کے سربراہ بھوپِندر سنگھ کے مطابق دونوں ملزمان نے مقامی لوگوں سے ٹرین کی پٹڑی خراب کروائی جس سے حادثہ پیش آیا۔
تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق اماکانتا مہتو کو گزشتہ سال جون میں بغاوت کے الزام میں پکڑا گیا تھا لیکن پھر دسمبر میں پرسرار حالات میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق مہتو کی رہائی غیر معمولی حالات میں ہوئی خاص طور پر جب ان کے خلاف بغاوت جیسے سنگین الزامات تھے۔ اسی طرح ایک اور ماؤ نواز رہنما دھنپتی مہتو کو بھی ضمانت پر ہا کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ واضح نہیں کیا کیا مغربی بنگال پولیس کے خفیہ یونٹ نے ان لوگوں سے رہائی کے بعد رابطہ رکھا تھا کہ نہیں۔




















