منی پور: ناکہ بندی ابھی جاری
منی پور میں تقریبا دو ماہ سے ناکہ بندی جاری ہے انڈیا کی شمالی مشرقی ریاست منی پور میں ناگا علیحدگی پسندوں کی جانب سے دو ماہ پہلے کی گئی ناکہ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
گزشتہ روز ناگا سٹوڈینٹس فیڈریشن( این ایس ایف) نے ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ وہ ریاست کو ملک کی دوسری سڑکوں سے جوڑنے والی سڑک کی ناکہ بندی ختم کردیں گے لیکن یہ ابھی بھی جاری ہے۔
سٹوڈینٹس ایسوسی ایشن آف منی پور( اے این ایس اے ایم) اور یونائیٹیڈ ناگا کاؤنسل آف منی پور ( یو این سی ایم) نے کہا ہے کہ وہ تب تک ناکہ بندی ختم نہیں کریں گے جب تک کہ حکومت پولیس کمانڈو اور نیم فوجی دستوں کو ریاست کے ناگا آبادی والے علاقے سے نہیں ہٹاتی ہے۔
منی پور میں جاری ناکہ بندی میں ایک سے زیادہ ناگا علیحدگی پسند تنظیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان تنظیموں نے منی پور کو انڈیا کے دوسرے علاقوں سے جوڑنے والی دو شاہراؤں کو بارہ اپریل سے بند کر رکھا ہے۔
منگل کو این ایس ایف نے کہا تھا وہ کہ عبوری طور پر اس ناکہ بندی کو ختم کردے گا۔
اے این ایس اے ایم اور یو این ایس ایم نے منی پور کے چار پہاڑي علاقوں میں خودمختار کاؤنسلوں میں نئے قوانین کے تحت انتخابات کے خلاف احتجاج میں ناکہ بندی شروع کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ نئے قوانین میں کاؤنسل کے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے۔
احتجاجی مظاہروں کے سبب ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ سے بعض ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی ہوگئی ہے۔
کئی علاقوں میں غذائی اشیاء کی کمی کی بھی اطلاعات ہیں اور ہنگامہ آرائی کے سبب سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ راستوں میں رکاوٹ کے سبب ریاست منی پور ملک کے دیگر حصے سے تقریباً کٹ گیا ہے۔
منی پور کے علحیدگی پسند ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے ناراض ہیں جس کے تحت وزیر اعلیٰ نے علیحدگی پسند رہنما تھوینگ لینگ موہیوا کو ان کے آبائی گاؤں میں جانے سے روک دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی حکومت کے سینئر اہل کار اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ریاست منی پور میں گئے ہیں اور منی پور اور ناگالینڈ کی انتظامیہ سے بات چیت کر رہے ہیں۔





















