جھارکھنڈ: دس ماؤ نواز باغی ہلاک

ماؤنواز باغی
،تصویر کا کیپشن حکومت نے ماؤ نواز باغیوں کے خلاف اپنا آپریشن تیز کردیا ہے

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی ضلع سنگھ بھوم میں ایک آپریشن کے دوران دس ماؤنواز باغیوں کو ہلاک اور باغیوں کے آٹھ کیمپوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی رات سونوا تھانے کے اندر آنے والے بورہاٹ جنگلوں میں پیش آیا ہے۔

جھارکھنڈ میں ایک سینیئر پولیس اہلکار اکھیلیش جھا نے بتایا کہ اس آپریشن کو گرین ہاک کا نام دیا گیا تھا اور اس میں دو ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں بعض پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جنہیں فوج کے ہیلی کوپٹروں کے ذریعے نزدیک کے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

یہ آپریشن مشترکہ طور پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔

جھارکھنڈ کے کئی اضلاع میں ماؤ نواز باغی با اثر ہیں اور آئے دن ریاست میں ماؤنواز باغیوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ وفاقی حکومت نے ایک پالیسی کے تحت نکسلیوں کے خلاف اپنا آپریشن تیز کردیا ہے۔ حکومت کے مطابق نکسلی ملک کی داخلی سیکورٹی کےلیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

جھارکھنڈ کے علاوہ اڑیسہ اور چھتیس گڑھ میں نکسلی سرگرم ہیں۔

گزشتہ ماہ چھتیس گڑھ کے دانتے واڑہ علاقے میں میں سینٹرل رزرو پولیس فورس پر حملہ ہوا تھا جس میں 76 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس معاملے میں ایک خود ساختہ نکسلی کمانڈر سمیت چھ نکسلیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دانتے واڑہ نکسلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے اور یہاں آئے دن نیم فوجی دستوں اور ماؤ نوازوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی ہیں۔

بھارت میں حکومت نے ماؤ نواز باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن '’گرین ہنٹ ‘ شروع کیا ہے۔ اس آپریشن کے شروع ہونےکے بعد سے ماؤ نوازوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔