گجرات: متاثرین کی انصاف کی طویل جدوجہد
اگر ضرورت پڑی تو نریندر مودی کو دوبارہ طلب کیا جائے گا: تفتیشی ٹیم ’سنیچر کے مشکل مرحلے کے دوران آپ کی نیک تمناؤں، تشویش اور جذبات کے لیے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں۔ خدا اس واقعے کے بعد مجھے اور زیادہ مضبوط بنائے‘۔
یہ الفاظ ہیں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے جنہوں نے خصوصی تفتیشی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ کے بغد اپنے انٹرنیٹ بلاگ میں لکھے ہیں۔ انہوں نے مزيد لکھا ہے ’میں نے پوری انکساری کے ساتھ اپنے ملک کے قانون اور اس کی بالا دستی کا احترام کیا ہے‘۔
<documentLink href="/urdu/multimedia/2010/03/100327_modi_clip_as.shtml" document-type="audio"> مودی ایس آئی ٹی کی پوچھ گچھ کے متعلق کیا کہتے ہیں</documentLink>
سنیچرکو پہلے مرحلے میں پانچ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد جب مودی ایس آئی ٹی کے دفتر سے باہر آئے تو ان پر دباؤ واضح تھا لیکن انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ بالکل نارمل ہیں۔ رات نو بجے سے ایک بجے تک دوسرے راؤنڈ کی پوچھ گچھ کے بعد جب وہ باہر نکلے تو ان پر دس گھنٹے کی پوچھ گجھ کا اثر نمایاں تھا۔
خصوصی تفتیشی ٹیم نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو انہیں دوبارہ طلب کیا جائے گا۔
ایس آئی ٹی کے سربراہ آر کے راگھون نے کہا ہے کہ مسٹر مودی سے پوچھ گچھ تفتیش کے عمل میں میں ایک بڑا قدم ہے۔ ’گجرات میں کیا ہوا تھا اس کے کچھ اسرار سمجھنے اور انھیں جاننے کی کوشش میں یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم وزیر اعلیٰ سے پوچھ گچھ کر سکے‘۔
راگھون نے کہا کہ انہین پورا اعتماد ہے کہ وہ اپنی رپورٹ مقررہ مدت میں 30 اپریل کو سپریم کورٹ کو پیش کر دیں گے۔ایس آئی ٹی سپریم کورٹ نے تشکیل دی ہے اور یہ گودھرا سمیت گجرات فسادات کے نو اہم واقعات کی تفتیش کر رہی ہے۔
پوچھ گچھ کے بعد ایس آئی ٹی گلبرگ رہائشی کمپلکس کے واقعے میں اگر مسٹر مودی کے خلاف معاملہ درج کرنے کی سفارش کرتی ہے تو ان سے اس معاملے میں نہ صرف پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے بلکہ کیس کی نوعیت کی بنیاد پر انھیں حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔
<documentLink href="/urdu/multimedia/2010/03/100327_zakia_jafari_clip_as.shtml" document-type="audio"> مودی مانیں کہ انہوں نے اپنا فرض پورا نہیں کیا: ذکیہ جعفری</documentLink>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی اس بات کی روشنی میں تشکیل دی ہے کہ مقامی پولیس اور انتطامیہ متاثرین کو انصاف دینے میں ناکام رہی ہیں۔ فساد کے بیشتر متاثرین کو مقامی پولیس، انتظامیہ اور مقامی عدالتوں پراعتبار نہیں ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خود ایس آئی ٹی میں میں چار میں سے تین پولیس افسروں کا تعلق گجرات سے ہے اور ایک افسر تو خود گلبرگ سوسائٹی کے معاملے میں ذکیہ جعفری کی شکایت میں ملزم ہیں۔
گذشتہ مہینے گلبرگ سوسائٹی کے معاملے میں خصوصی وکیل نے یہ الزام لگا کر استعفیٰ دے دیا کہ ایس آئی ٹی کے ایک افسر کیس کو سبوتاز کرنے کے لیے گواہوں کو اپنا بیان بدلنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی ٹی اس معاملے میں ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے۔
گودھرا میں ٹرین جلائے جانے کے معاملے میں ایک گواہ نے الزام لگایا کہ اسے ایس آئی ٹی کے افسروں نے گزشتہ مہینے قید کیا تھا اور ایذائیں دی تھیں کیوں کہ اس کا بیان سرکاری بیان سے مختلف ہے۔
اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ اس پس منظر میں سماجی کارکن اور حقوق انسانی کی علمبردار تیستا سیتلواڑ نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے جس میں ایس آئی ٹی کی تشکیل نو کی در خواست کی گئی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے ایس آئی ٹی کے جواز کو چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ ان معاملات پر پانچ اپریل کو سماعت کرے گی۔
<documentLink href="/urdu/multimedia/2010/03/100327_teesta_sitalwad_as.shtml" document-type="audio"> معاملہ بہت اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے: کمیونلزم کے خلاف سرگرم کارکن ٹیسٹا ستلواد</documentLink>
سابق رکن پارلیمان احسان حعفری کواحد آباد کے گلبرک رہائشی کملپکس میں فسادیوں نے سال دو ہزار دو میں کئی گھنٹے کے محاصرے کے بعد 68 دیگر افرارکے ساتھ قتل کیا تھا۔ ان کی بیوہ ذکیہ جعفری کی شکایت پر ہی سپریم کورٹ کے حکم پر ایس آئی ٹی نے مسٹر مودی سے پوجھ گچھ کی۔ جب مسٹر مودی کی پیشی کی خبر انہیں دی گئی تو محترمہ جعفری پہلے مسکرائیں اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔
گجرات کے متاثرین کو یہ پتہ ہے کہ آٹھ برس گزرنے کے بعد بھی انصاف کے لیے ان کی جد وجہد ابھی بہت طویل ہے۔ بعض متاثرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ممکن ہے کہ 1993 کے ممبئی فسادات اور 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی طرح شاید انصاف کبھی بھی نہ مل سکے‘۔























