کشمیر: نئی فورس پر بھی پتھراؤ

کشمیر میں حالیہ حالات کی ایک فوٹو
،تصویر کا کیپشنبدھ کے روز کسی ہلاکت کی کوئی خبر نہیں ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی پر قابو پانے کے لئے کئی قصبوں میں تعینات کی گئی ریپِڈ ایکشن فورس یا آر اے ایف کے خلاف بھی مختلف مقامات پر مظاہرے کئے گئے ہیں۔

وادی میں پچھلے چون روز سے جاری مظاہروں کے خلاف سرکاری کارروائیاں کی گئیں۔ اس عرصے میں اب تک چوالیس افراد مارے گئے جن میں سے ستائیس ہلاکتیں صرف پچھلے پانچ روز میں رونما ہوئی ہیں۔

دراثناء ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نےکشمیر میں جاری کشیدگی پر پارلیمان میں بیان دیتے امن کی اپیل کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہلاکتوں پر افسوس ہے۔ انہوں نے کشمیر کی عوام سے اپیل کی ہے کہ مظاہروں کے دوران بچوں کو مظاہروں سے دور رکھیں۔ وہیں انکا کہنا تھا کہ اس دوران سیکورٹی فورسز نے تحمل سے کام لیا ہے۔

<span/><link type="page"><caption> کرفیو کے دوران احتجاج جاری: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2010/08/100804_srinagar_pics.shtml" platform="highweb"/></link>

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لیے سیکورٹی فورسز کی تعداد کافی ہے۔

اس دوران مظاہروں کو روکنے کے لئے فوج کی مدد بھی حاصل کی گئی اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری کو اندرونی بستیوں میں تعینات کیا گیا۔

حکومت نے منگل کی شام کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات بھی جاری کئے ۔ تاہم آر اے ایف کی تعیناتی کے خلاف سرینگر اور کئی دوسرے قصبوں میں بدھ کی صبح احتجاج ہوا۔

شمالی قصبہ سوپور کے شہری غلام حسن نے بتایا کہ مسجدوں میں پولیس کی طرف سے دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات کیا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بدھ کی صبح لوگ سڑکوں پر نکلے اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔

اس پر نیم فوجی دستوں نے مظاہرین پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور فائرنگ کی۔ پولیس کی کارروائی میں ایک نوجوان اشفاق احمد کو گولی لگی جسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ وسطی کشمیر کے ناگام قصبہ میں بھی مظاہرین پر فائرنگ کے واقعہ میں پانچ نوجوان زخمی ہوگئے۔

اِدھر سرینگر کے خانیار اور دوسرے نچلے علاقوں میں بھی لوگوں نے ریپِڈ ایکشن فورس کی تعیناتی کے ردعمل میں احتجاج کرنے کی کوشش کی تاہم مظاہرین کو طاقت کے استعمال سے منتشر کیا گیا۔ سرینگر کے رعناواری میں قائم جواہر لعل نہرو ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر کو نیم فوجی دستوں نے زد کوب کیا جس کے بعد اسے ہڈیوں اور جوڑوں کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ مقامی لوگوں اور ہسپتال عملہ نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کیا۔

بانڈی پورہ ، کولگام، اننت ناگ، کپوارہ، پلوامہ، پانپور اور دوسرے قصبوں سے بھی ریپِڈ ایکشن فورسس کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے دو اگست کو وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے نئی دلّی میں وزیراعظم منموہن سنگھ اور دوسرے بھارتی وزراء کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس میں مزید فورسز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے بعد بھارتی وزارت داخلہ نے اٹھارہ سال قبل فرقہ وارانہ فسادات کا تدارک کرنے کے لئے تشکیل دی گئی ریپِڈ ایکشن فورس یا آر اے ایف کی پچاس کمپنیوں کو کشمیر روانہ کیا گیا۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ سرینگر اور سوپور میں آر اے ایف کے پانچ سو اہلکار پہلے ہی تیعنات کئے جاچکے ہیں۔

اسی دوران چوالیس نوجوان مبینہ طور پر فورسز کی فائرنگ سے مارے جاچکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد گولیوں سے زخمی ہونے کے بعد ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ ان سے متعدد کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ مظاہرین کے پتھراؤ سے بھی درجنوں پولیس اور نیم فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

کرفیو اور ہلاکتوں کی وجہ سے عام زندگی معطل ہے اور وادی میں خوراک کی اشیاء کا سٹاک بھی ختم ہورہا ہے اور لوگوں کو کھانے پینے کی چیزیں حاصل کرنے میں مشکالات کا سامنا ہے۔

ہسپتالوں میں ادویات اور دوسری ضروریات کی وجہ سے زبردست بحران کی صورتحال ہے۔ سینیئر معالج ڈاکڑ سلیم خان کا کہنا ہے کہ’ہر روز یہاں کے ہسپتالوں میں گولیوں سے زخمی کم از کم ایک سو زخمیوں کا علاج ہورہا ہے۔ ہمارے پاس گاز اور بینڈیج اور آیوڈین ختم ہورہی ہے۔‘ اس کے علاوہ بازاروں سے کینسر اور دوسری خطرناک بیماریوں کے لئے مخصوص دوائیوں کا سٹاک بھی ختم ہو رہا ہے۔

محکمہ خوراک کے ایک افسر نے بتایا کہ ضلع اننت ناگ میں لوگوں نے سرینگر جموں شاہراہ پر بھاری سفیدے کاٹ کر سڑک کو مسدود کردیا ہے جسکی وجہ سے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی مال بردار ٹرکوں کو سرینگر میں داخل ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دریں اثنا سرینگر میں چاول، سبزی اور خوراک کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں چالیس فی صد اضافہ ہوا ہے، تاہم لوگ موقعہ ملتے ہیں غذائی اجناس ذخیرہ کرلیتے ہیں۔