کشمیر پر بات چیت کی پیش کش

بھارتی حکومت نے مسئلہ کشمیرکا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ داخلہ پی چدمبرم نے کہا ’حکومت ریاست کے عوام کے دل و دماغ کو جیتنا چاہتی ہے اور اِس کی خواہش ہے کہ سید علی شاہ گیلانی جسیے سخت گیر علیحدگی پسند رہنما بھی مذاکرات میں شامل ہوں۔‘
’ہم سیاسی عمل دوبارہ شروع کریں گے۔اس مسئلہ کا سیاسی حل مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔‘
وادی کشمیر میں تقریباً دو مہینے سے جاری پر تشدد مظاہروں میں پچاس سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد مسٹر گیلانی نے اس ہفتے مظاہرین سے پر امن طور پر احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی۔ تب سے وادی میں حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں۔
حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے نے ماضی میں مسئلہ کشمیر پر وفاقی حکومت سے بات چیت کی ہے لیکن مسٹر گیلانی کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ جب تک کشمیر میں بھارتی فوج موجود ہے، مذاکرت سے کوئی حل نہیں نکل سکتا اور مسئلے کا واحد حل ریفرینڈم ہے جس میں دونوں طرف کے کشمیریوں سے پوچھا جائے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔
مسٹر چدمبرم نے کہا کہ وہ ریاست میں مسلح افواج کی تعداد میں کمی اور انہیں وہاں حاصل خصوصی اختیارات پر نظر ثانی کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرنے چاہتے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی فیصلہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی کیا جاسکتا ہے۔

اسی ہفتے جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلی عمر عبداللہ نے بھی وفاقی حکومت سے ریاست کے لیے سیاسی پیکج کا مطالبہ کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی پیکج کے ذریعہ ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
مسٹر چدمبرم نے یہ اعلان بھی کیا کہ ایک کل جماعتی وفد پیر کو وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کرسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے عمر عبداللہ نے بھی ایک کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی لیکن وزیرِاعظم کی درخواست کے باوجود حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پی ڈی پی نے اس میں حصہ نہیں لیا تھا۔
مسٹر چدمبرم نے کشمیر کے بارے میں بدھ کو ایک بیان دیا تھا جس پر آج اُن سے وضاحتیں طلب کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے اور اب عام شہریوں کی شورش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق انوکھے حالات میں ہوا تھا اور اس کا انوکھا حل تلاش کرنا ہوگا اور وہ خاموش مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، کریں گے۔
واضح رہے کہ بات چیت کا یہ سلسلہ گزشتہ برس ایک حریت رہنما پر قاتلانہ حملے کے بعد تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔






















